خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 103 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 103

خطبات طاہر جلد ۸ 103 خطبہ جمعہ ۷ ار فروری ۱۹۸۹ء تصورات میں مبتلا ہو جائیں گے کہ جس کا نتیجہ عقل کے ماؤف ہونے کے سوا اور کچھ نہیں نکل سکتا۔شریک ہومز کو تمام دنیا میں جو غیر معمولی عظمت حاصل ہوئی ہے وہ بھی تو ایک جاسوسی ناول لکھنے والا انسان تھا لیکن اس کی جاسوسی کہانیاں دنیا کی اتنی زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہیں کہ آج تک کسی دوسرے مصنف کی اس طرز کی کہانیاں دوسری زبانوں میں اس طرح ترجمہ نہیں کی گئیں۔جس طرح شکسپیئر کے نام پر انگریز قوم کو فخر ہے اس طرح اس جاسوسی ناول نگار کے نام پر بھی انگریز قوم فخر کرتی ہے۔یہ محض اس لئے ہے کہ اس کے استدلال میں معقولیت تھی اگر چہ کہا نیاں فرضی تھیں۔اس لئے اس قسم کی جاسوسی کہانیاں بچوں کو ضرور پڑھائی جائیں جس سے استدلال کی قو تیں تیز ہوں لیکن احمقانہ جاسوسی کہانیاں تو استدلال کی قوتوں کو پہلے سے تیز کرنے کی بجائے ماؤف کر دیا کرتی ہیں۔اسی طرح ایک رواج ہندوستان میں اور پاکستان میں آج کل بہت بڑھ رہا ہے اور وہ بچوں کو دیو مالائی کہانیاں پڑھانے کا رواج ہے اور ہندوستان کی دیو مالائی کہانیوں میں اس قسم کے لغو تصورات بکثرت ملتے ہیں جو بچے کو بھوتوں اور جادو کا قائل کریں اور اس قسم کے تصورات اس کے دل میں جاگزین کریں گویا سانپ ایک عمر میں جا کر اس قابل ہو جاتا ہے کہ دنیا کے ہر جانور کا روپ دھار لے اور اسی طرح جادو گر نیاں اور ڈائنیں انسانی زندگی میں ایک گہرا کردار ادا کرتی ہیں۔یہ سارے فرضی قصے اگر بڑا پڑھے تو وہ جانتا ہے کہ یہ محض دل بہلاوے کی من گھڑت کہانیاں ہیں لیکن جب بچہ پڑھتا ہے تو ہمیشہ کے لئے اس کے دل پر بعض اثرات قائم ہو جاتے ہیں جو بچہ ایک دفعہ ان کہانیوں کے اثر سے ڈرپوک ہو جائے اور اندھیرے اور انہونی چیزوں سے خوف کھانے لگے پھر تمام عمر اس کی یہ کمزوری دور نہیں کی جاسکتی۔بعض لوگ بچپن کے خوف اپنے بڑھاپے تک لے جاتے ہیں۔اس لئے کہانیوں میں بھی ایسی کہانیوں کو ترجیح دینا ضروری ہے جس سے کردار میں عظمت پیدا ہو۔حقیقت پسندی پیدا ہو، بہادری پیدا ہو، دیگر انسانی اخلاق میں سے بعض خلق نمایاں کر کے پیش کئے گئے ہوں۔ایسی کہانیاں خواہ جانوروں کی زبان میں بھی پیش کی جائیں وہ نقصان کی بجائے فائدہ ہی دیتی ہیں۔عربی کہانیاں لکھنے والوں میں یہ رجحان پایا جاتا تھا کہ وہ جانوروں کی کہانیوں کی صورت میں بہت سے اخلاقی سبق دیتے تھے اور الف لیلیٰ کے جو قصے تمام دنیا میں مشہور ہوئے ہیں ان میں اگر چہ بعض بہت گندی کہانیاں بھی شامل ہیں لیکن ان کے پس پردہ روح یہی تھی کہ مختلف