خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 97
خطبات طاہر جلد ۸ 97 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۹ء سے اور نو احمدی غیر ملکوں کے مخلصین بیچارے ساری عمر بڑے اخلاص سے جماعت سے تعلق رکھتے تھے اُن کو اپنا ہمدرد بنانے کی خاطر یہ بتانے کے لئے کہ دیکھیں جی ہمارے ساتھ یہ ہوا ہے وہ قصے بیان کرنے شروع کئے اور خود تو اُسی طرح بچ کے واپس چلے گئے اپنے ملک میں اور پیچھے کئی زخمی روحیں پیچھے چھوڑ گئے۔اُن کا گناہ کس کے سر پہ ہوگا یہ بھی ابھی طے نہیں ہوا کہ منتظمہ کی غلطی بھی تھی کہ نہیں اور جہاں تک میں نے جائزہ لیا غلطی منتظمہ کی نہیں تھی ، بدظنی پہ سارا سلسلہ شروع ہوا۔لیکن اگر غلطی ہوتی بھی تب بھی کسی کا یہ حق نہیں ہے کہ اپنی تکلیف کی وجہ سے دوسروں کے ایمان ضائع کرے۔پس سچا وفادار وہ ہوا کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کی جماعت پر نظر رکھے اور اُس کی صحت پر نظر رکھے۔پیار کا وہی ثبوت سچا ہے جو حضرت سلیمان نے تجویز کیا تھا اور اس سے زیادہ بہتر قابل اعتماد اور کوئی بات نہیں۔آپ نے سُنا ہے، بارہا مجھ سے بھی سنا ہے، پہلے بھی سنتے رہے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان کی عدالت میں دو دعویدار ماؤں کا جھگڑا پہنچا۔جن کے پاس ایک ہی بچہ تھا کبھی ایک گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی ، کبھی دوسری گھسیٹ کر اپنی طرف لے جاتی تھی اور دونوں روتی تھیں اور شور مچاتی تھیں کہ یہ میرا بچہ ہے۔کسی صاحب فہم کو سمجھ نہیں آئی کہ اس مسئلہ کو کیسے طے کیا جائے۔چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عدالت میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو بڑا مشکل ہے طے کرنا کہ کس کا بچہ ہے۔اگر ایک کا بچہ ہوا اور دوسری کو دے دیا گیا تو بڑا ظلم ہو گا اس لئے کیوں نہ اس بچے کو دوٹکڑے کر دیا جائے اور آدھا ٹکڑا ایک کو دے دیا جائے اور آدھا ٹکڑا دوسرے کو دے دیا جائے تا کہ نا انصافی نہ ہو۔چنانچہ انہوں نے جلاد سے کہا کہ آؤ اور اس بچے کو عین بیچ سے نصف سے دوٹکڑے کر کے ایک ایک کو دے دو، دوسرا دوسری کو دے دو۔جو ماں تھی روتی چیختی ہوئی بچے کے اوپر گر پڑی کہ میرے ٹکڑے کر دو یہ بچہ اُس کو دے دو لیکن خدا کے لئے اس بچے کو کوئی گزند نہ پہنچے۔اُس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ اس کا بچہ ہے۔پس جوخدا کی خاطر جماعت سے محبت رکھتا ہے کیسے ممکن ہے کہ وہ جماعت کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے دے اور ایسی باتیں برداشت کر جائے کہ جس کے نتیجے میں کسی کے ایمان کو گزند پہنچتا ہو۔وہ اپنی جان پر سب و بال لے لے گا اور یہی اُس کی سچائی کی علامت ہے لیکن اپنی تکلیف کو دوسرے کی روح کو زخمی کرنے کے لئے استعمال نہیں کرے گا۔تو واقفین میں اس تربیت کی غیر معمولی ضرورت ہے کیونکہ یہ ایک دفعہ واقعہ نہیں ہوا، دو دفعہ