خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 96
خطبات طاہر جلد ۸ 96 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۹ء جماعت سے تبصرے کرنے میں بے احتیاطی کرتے ہیں اُن کی اولا دوں کو کم و بیش ضرور نقصان پہنچتا ہے اور بعض ہمیشہ کے لئے ضائع ہو جاتی ہیں۔واقفین بچوں کو نا صرف اس لحاظ سے بچانا چاہئے بلکہ یہ سمجھانا چاہئے کہ اگر تمہیں کسی سے کوئی شکایت ہے خواہ تمہاری تو قعات اس کے متعلق کتنی عظیم بھی کیوں نہ ہوں اُس کے نتیجے میں تمہیں اپنے نفس کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔اگر کوئی امیر جماعت ہے اور اُس سے ہر انسان کو توقع ہے کہ یہ کرے اور وہ کرے اور کسی توقع کو اُس سے ٹھوکر لگ جاتی ہے تو واقفین زندگی کے لئے بہت ضروری ہے کہ اُن کو یہ خاص طور پر سمجھایا جائے کہ اُس ٹھو کر کے نتیجے میں تمہیں ہلاک نہیں ہونا چاہئے۔یہ بھی اُسی قسم کے زخم والی بات ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی دراصل ٹھوکر تو کھاتا ہے کوئی عہدیدار اور لحد میں اتر جاتا ہے دیکھنے والا۔وہ تو ٹھو کر کھا کر پھر بھی اپنے دین کی حفاظت کر لیتا ہے اور اپنی غلطی سے انسان استغفار تو کرتا ہے لیکن ہلاک نہیں ہو جایا کرتا اکثر سوائے اس کے کہ بعض خاص غلطیاں ایسی ہوں لیکن جن کا مزاج ٹھوکر کھانے والا ہے وہ اُن غلطیوں کو دیکھ کر بعض دفعہ ہلاک ہی ہو جایا کرتے ہیں، دین سے متنفر ہو جایا کرتے ہیں اور پھر جراثیم پھیلانے والے بن جاتے ہیں۔مجلسوں میں بیٹھ کر جہاں دوستوں میں تذکرے ہوئے وہاں کہہ دیا جی فلاں صاحب نے تو یہ کیا تھا، فلاں صاحب نے یہ کیا تھا۔ساری قوم کی ہلاکت کا موجب بن جاتے ہیں۔تو بچوں کو پہلے تو اس بلا سے محفوظ رکھیں پھر جب بڑی عمر کے ہوں تو اُن کو سمجھا ئیں کہ اصل تو محبت خدا اور اُس کے دین سے ہے۔کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس سے خدا کی جماعت کو نقصان پہنچتا ہو۔آپ کو اگر کسی کی ذات سے تکلیف پہنچی ہے یا نقصان پہنچا ہے تو اُس کا ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ آپ کو حق ہے کہ اپنے ماحول کے دوستوں کے ایمانوں کو ، اپنے بچوں، اپنی اولادوں کے ایمانوں کو بھی آپ زخمی کرنا شروع کر دیں۔اپنا زخم حوصلے کے ساتھ اپنے تک رکھیں اور اُس کے اند مال کے جو ذرائع باقاعدہ خدا تعالیٰ نے مہیا فرمائے ہیں اُس کو اختیار کریں لیکن لوگوں میں ایسی باتیں کرنے سے پر ہیز کریں۔آج بھی ایسی باتیں ہو رہی ہیں جماعت میں اور ایسے واقعات میری نظر میں آتے رہتے ہیں۔ایک شخص کو کوئی تکلیف پہنچی ہے اور اس نے بعض مخلصین کے سامنے وہ باتیں بیان کیں اور باتیں سچی تھیں اور یہ سوچا نہیں کہ ان مخلصین کے ایمان کو کتنا بڑا اس سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔بعض واقفین زندگی نے بھی ایسی حرکتیں کیں اُن کو شکوہ ہوا انتظامیہ سے، تبشیر سے، کسی