خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 91 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 91

خطبات طاہر جلدے = 91 خطبه جمعه ۱۹؍ فروری ۱۹۸۸ء افریقی کردار کی عظمت اور نائیجیرین احمدیوں کو نصائح ( خطبه جمعه فرموده ۱۹ / فروری ۱۹۸۸ء بمقام او جوکورونائیجیریا کے انگریزی متن کا اردو تر جمہ ) خطبہ سے قبل حضور رحمہ اللہ نے فرمایا: خطبہ کے دوران نہ تو آپ ہنس سکتے ہیں اور نہ ہی بلند آواز سے خوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔پس یہ آپ خطبہ جمعہ شروع ہونے سے پہلے کرلیں۔نائیجیریا سے ایک احمدی نے ایک دفعہ مجھے لکھا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے اس طرح کا لباس (افریقی چوغہ ) پہنا ہوا ہے۔ان صاحب کا تعلق بین شہر سے تھا۔انہوں نے اپنی خواب پوری کرنے کے لئے یہ لباس مجھے لندن بھجوایا اور مجھ سے درخواست کی کہ جب میں نائیجیریا آؤں تو اس کو ساتھ لاؤں اور اسے پہنوں۔میں نے ان سے وعدہ کر لیا۔جب میں نے اجو بوڈے کا دورہ کیا تو وہاں ایک احمدی نوجوان نے (جو کہ غالباً کنسٹرکشن کے کاروبار سے منسلک ہیں ) بھی مجھے ایک لباس دیا جس کو میں نے اندر کی طرف پہنا ہوا ہے۔میں نے ان سے بھی وعدہ کیا تھا کہ میں اس کو جمعہ کے موقع پر پہنوں گا۔پس ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ میں نے وعدہ پورا کر دیا ہے۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے خطبہ جمعہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا: اللہ کے فضل کے ساتھ میرا دورہ افریقہ اب اختتام پذیر ہورہا ہے۔افریقہ کا پہلا ملک جس کا میں نے دورہ کیا وہ گیمبیا ہے اور اس دورہ میں نائیجیریا آخری ملک ہے۔لیکن میں امید رکھتا ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میرا یہ دورہ آخری ثابت نہ ہو بلکہ اللہ مجھے توفیق دے کہ میں یہاں بار بار آؤں تا کہ آپ لوگوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں اور آپ کی باتوں کو اپنے کانوں سے سن سکوں۔رپورٹ سے سن لینا اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے سے بہت مختلف ہوتا ہے۔افریقہ کا جو تصور میں