خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 884
خطبات طاہر جلدے 884 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء میں صبر ، نقص جان کی حالت میں صبر ، آرزؤں کے مقابل پر صبر کی مزاحمت ، نتائج کے انتظار میں صبر۔یہ چند امور ہیں جو میں جماعت کے سامنے خاص طور پر رکھنا چاہتا ہوں۔خوف کے وقت بھی انسان صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہے اور غم کی حالت میں جب نقصان ہو جاتا ہے اس وقت بھی بسا اوقات صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔اگر خوف کے وقت اللہ صبر کیا جائے تو اس کا پھر کیا نتیجہ نکلے گا۔سوال یہ ہے کہ ایک انسان گھیرے میں آ گیا ہے، کوئی بچنے کی صورت نہیں ہے اگر خوف غالب آجائے اور صبر نہ رہے تو جو بھی انسان حرکت کرے گا وہ نقصان والی حرکت ہوسکتی ہے لیکن اگر الہ صبر کرے خوف سے تو اس وقت اس کو ایک قسم کی طمانیت محسوس ہوتی ہے۔انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس خوف سے اگر کوئی بچا سکتا ہے تو خدا بچا سکتا ہے اور اگر خدا کی مرضی نہیں ہے تو تب بھی میں خدا ہی کا ہوں کوئی فرق نہیں پڑتا جو اس کا فیصلہ ہے مجھے منظور ہے۔تو وہ خوف غیر اللہ کا نہیں رہتا بلکہ خدا کا خوف بن جاتا ہے۔شرک کا مضمون توحید میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ایک دفعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے اپنا ایک واقعہ سنایا جنہیں لوگ کہتے تھے جن بھوت یا اس قسم کے قصے مجھے انہوں نے فرمایا کہ مجھے زیادہ تو اس کا تجربہ نہیں لیکن ایک ایسا واقعہ ہے جو اس قسم کے واقعات کے قریب تر ہے اور وہ یہ کہ میں اپنے دالان میں پوری طرح دروازے بند کر کے لیٹا تھا اور ابھی پوری طرح نیند نہیں آئی تھی کہ میں نے دیکھا میری ٹانگوں پر ہاتھوں کا دباؤ پڑا ہے۔اتنا واضح اور مضبوط دباؤ تھا کہ اس کو کسی طرح بھی وہم قرار نہیں دیا جا سکتا اور چونکہ بجلی بجھا چکا تھا میں نظر نہیں آسکتا تھا کہ کون ہے۔کچھ دیر کے بعد پھر دوبارہ ، پھر سہ بارہ جب دباؤ پڑا اور بڑے زور سے پڑا تو مجھے اس حالت میں پہلے خوف پیدا ہوا پھر میں خدا کی طرف متوجہ ہوا اور میں نے اس وجود کو جو بھی تھا میں نہیں جانتا اس کو میں نے کہا کہ دیکھو اگر تو تم کوئی غیر اللہ کی خدا کے سوا کوئی طاقت بن کے آئے ہو، کوئی شیطانی طاقت ہو جو مجھے ڈرانے آئے ہو تو میں موحد ہوں، مجھے کسی غیر اللہ سے کوئی خوف نہیں ہے۔اگر خدا نے مجھے تم سے بچانا ہے تو بچائے گا نہیں بچائے گا تب بھی میں اس کی رضا پر راضی ہوں مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں اور اگر تم خدا کی طرف سے آئے ہو تو پھر کرو جو کرنا ہے میں کون ہوتا ہوں روک ڈالنے والا۔ادھر یہ الفاظ میں نے بلند آواز میں ادا کئے اور اچانک وہ دباؤ ہٹا اور اس کے بعد پھر کبھی مجھے اس قسم کا تجربہ اس جگہ نہیں ہوا اور نہ بھی کوئی خوف پیدا ہوا۔