خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 883 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 883

خطبات طاہر جلدے 883 خطبه جمعه ۳۰ دسمبر ۱۹۸۸ء محنتیں ضائع ہو جائیں، ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو ہلاک کرنے والی بنیں بلکہ آپ دیکھیں گے کہ اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِینَ کا وعدہ آپ کے حق میں پورا ہورہا ہے۔حلم جس کو عطا ہو خدا اس کے قریب آجایا کرتا ہے اور رفتہ رفتہ صبر کے نتیجے میں انسان کے اندر الہی طاقتیں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔اس لئے صبر خواہ غصے کی حالت پر ہو یا کسی اور حالت پر ہو ہمیشہ آپ کو صبر خدا کی طرف لے کے جائے گا اور اگر وہ اس نیت کے ساتھ کیا گیا ہو کہ خدا مجھے ملے تو اس کے نتیجے میں تو پھر مزید ایسے روحانی فوائد بھی انسان کو حاصل ہوں گے جن کی تفصیل کا یہاں اس وقت موقع نہیں ، نہ وقت ہے لیکن ہر انسان جس کو ان امور کا تجربہ ہے وہ جانتا ہے یا جس کو نہیں ہے اس کو علم ہو جائے گا۔یہ ایسی چیزیں ہیں جو روزمرہ آپ کو محسوس ہوں گی۔یعنی جب آپ خدا کی خاطر کسی ایک پہلو سے صبر اختیار کرنے کی کوشش شروع کر دیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ روز مرہ آپ خدا کو اپنے پہلے سے قریب تر پائیں گے۔یہ ہے فرار الی اللہ یہ ایک فرضی بات نہیں ہے ، یہ ایک حقیقت ہے، ایک سائنسی حقیقت ہے۔خدا اس طرح نہیں ملا کرتا کہ اچانک سارے کا سارامل جائے۔خدا لا محدود ہے آپ محدود ہیں۔آپ اپنی حدود کے دائرے میں جس حصے کو خدا کا بناتے چلے جائیں گے اس حصے میں خدا آنا شروع ہو جائے گا اور ہر حصے میں بھی مکمل نہیں آسکتا جس حد تک کسی حصے کو آپ خدا کے سپر دکرنا شروع کرتے ہیں اس حصے میں اتنا ہی خدا کا عمل دخل زیادہ شروع ہو جاتا ہے۔اس کا آخری مقام وہ ہے جس کو ہم مقام محمدیت کہتے ہیں۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الانعام : ۱۶۳) کا مقام ہے لیکن اس پر میں انشاء اللہ بعد میں روشنی ڈالوں گا جب تبتل الی اللہ کا مضمون بیان کروں گا۔قناعت کے ایک طرف صبر کا پہرہ ہے جو شرک سے انسان کو بچاتا ہے اور دوسری طرف تبتل الی اللہ کا مضمون ہے جو تو حید خالص اور توحید کامل عطا کرتا ہے۔ایک طرف منفی خطرات سے بچانے والی قوتیں ہیں اور دوسری خدا کی طرف لے جانے والی۔جس حد تک بھی منفی خطرات سے بچے انسان اس حد تک خدا کے قریب ہوتا ہے لیکن وہ قرب کی حالت اور ہے جو قرب کی حالت تبتل الی اللہ کے نتیجے میں عطا ہوتی ہے وہ بہت ہی عظیم الشان حالت ہے اور وہ محض صبر سے عطا نہیں ہوا کرتی بلکہ وہ ایک زیادہ گہرا اور زیادہ وسیع مضمون ہے۔بہر حال اس کی باتیں انشاء اللہ بعد میں ہوں گی۔اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کے خوف کی حالت میں صبر اور حرص کی حالت میں صبر، نقص اموال کی حالت