خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 868 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 868

خطبات طاہر جلدے 868 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۸ء اس کو تماشا بنانا چاہتے تھے ہمیں بتائے بغیر دراصل یہ ثابت کرنا چاہتے تھے دوسروں پر کہ یہ پھر بھی بھاگ گئے ہم نے یہاں تک رعایت کی اور پھر بھی یہ انہوں نے تسلیم نہیں کیا۔اس لئے ہم اس کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں اور اس مشارکت زمانی کے ساتھ اب وقت مقرر کر لو اور ہم بھی آتے ہیں میدان میں تم بھی میدان میں نکلو۔اب ان کے لئے بھاگنے کی راہ کوئی نہیں تھی کیونکہ وہ جو شرائط پیش کر چکے تھے ہم مان گئے لیکن آخری وقت میں ایک چالا کی انہوں نے کر لی ہے۔جنگ اخبار میں جو خبر شائع ہوئی ہے اگر وہ درست ہے تو اس کی رو سے انہوں نے آخری چالا کی بچنے کے لئے یہ کی ہے کہ ہم چونکہ ہیں ہی بچے اس لئے ہم اپنے اوپر لعنت نہیں ڈالیں گے بلکہ صرف احمدیوں پر لعنت ڈالیں گے یعنی قادیانیوں کے خلاف لعنتیں ڈالیں گے کہ اللہ ان کو ساری دنیا میں برباد کر دے، ذلیل ورسوا کر دے، کچھ نہ ان کا چھوڑ ، ان کے گھر بار کو آ گئیں لگا دے وغیرہ وغیرہ یعنی کو سنے کوسیں گے لیکن قرآن کی زبان میں تَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (آل عمران : ۶۲) نہیں کہیں گے چونکہ ہم تو ہیں ہی بچے۔عجیب بات ہے کہ اگر بچے ہیں تو کاذبین کی لعنت کس طرح تم پر پڑ جائے گی۔تمہیں یہ یقین کیوں نہیں ہے کہ جب ہم کہیں گے کہ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ تو خدا تمہیں معاف کر دے گا کیونکہ تم جھوٹے نہیں ہو۔دل بتا رہے ہیں کہ جھوٹے ہیں اور اس لئے اس سے فرار کی یہ راہ اختیار کی ہے کہ ہم تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے اوپر لعنت ہی نہیں ڈالی تھی کہ اے خدا! یہ کیا بات ہے۔ہم نے تو قادیانیوں پر لعنت ڈالی تھی ان پر لعنت ڈال ہم پر نہ ڈالنا ہمیں جھوٹ کی اجازت ہے۔دوسرا ایک عجیب تمسخر ہے مباہلے سے بلکہ ظلم ہے اور آنحضرت ﷺ کی شدید ہتک ہے اور خدا کی شدید گستاخی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو فرمایا کہ اپنے مقابل جھوٹوں کے پاس جاؤ اور ان کو یہ کہو کہ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ میں بھی کہتا ہوں تم بھی کہوتا کہ جو شخص جھوٹا ہے خدا اس پر لعنت ڈالے۔کیا نعوذ باللہ من ذالک حضور اکرم ﷺ کو اپنی صداقت کا یقین نہیں تھا؟ اس یقین کے باوجود کہ اب خدا کو علم نہیں تھا کہ کائنات میں سب سے بڑا سا محمد مصطفی ہے ہیں۔تو پھر آپ کو کیوں کہا کہ اس لعنت کی طرف دعوت دو کے تَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ جو بھی فریق جھوٹا ہے خدا کی لعنت اس پر پڑے۔تو ایسے جاہل ہیں اپنی نجات کے لئے اگر ان کو خدا اور رسول پر بھی حملے کرنے پڑیں تو اپنی