خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 867 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 867

خطبات طاہر جلدے 867 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۸ء ہوں گے اور ساری امت کو ساری دنیا کو انشاء اللہ امت واحدہ بنا دیں گے۔اس کے بعد میں اس مضمون کو سر دست چھوڑتا ہوں اور آج میں مباہلہ کے متعلق کچھ آپ کے سامنے چند باتیں رکھنی چاہتا ہوں۔ایک تازہ صورتحال مباہلہ کی یہ پیدا ہوئی ہے کہ کم و بیش چھ ماہ کے بعد یہاں انگلستان کے ایک مولوی نے جماعت احمدیہ کو اور مجھے خصوصیت کے ساتھ یہ چیلنج دیا کہ آپ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ایک جگہ اجتماع ضروری نہیں یعنی مشارکت مکانی ضروری نہیں یعنی جگہ کے اعتبار سے ایک جگہ اکٹھا ہونا ضروری نہیں تو ہم آپ کے لئے ایک اور صورت پیش کرتے ہیں گویا کہ نعوذ و باللہ وہ پیروی کر رہے ہیں ہماری اور ہم بھاگ رہے ہیں حالانکہ ہم ان کے پیچھے جارہے ہیں۔ہم تو یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم کہہ چکے ہیں جو کہنا ہے خدا کے حضور ، لعنت ڈال چکے ہیں جھوٹوں پر تمہیں جرات ہے تم بھی ڈال کے دکھا دو یہ بات تھی صرف لیکن دنیا کو دھوکا دینے کی خاطر اور شاید اس خیال سے کہ ہم اس بات کو مانیں گے نہیں انہوں نے یہ ایک مضمون شائع کر کے سب جگہ بھجوایا صرف ہمیں نہیں بھجوایا۔اس سے مجھے یہ شبہ اور قوی ہوتا ہے کہ ان کی نیت یہ تھی کہ ان کو پتا ہی نہ لگے۔غیر احمدیوں میں تقسیم ہو گیا مضمون ہمیں نہیں بھجوایا گیا اور مضمون یہ تھا کہ ہم ۲۳ دسمبر کو جو جمعہ ہے اس میں آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ مشارکت مکانی نہیں تو مشارکت زمانی کر لیں یہ مولویانہ محاورہ ہے مراد یہ ہے کہ ایک جگہ اکٹھا نہیں ہونا چاہتے تو ایک وقت میں اکٹھے ہو جائیں اور کوئی وقت مقرر کر لیں۔کوئی تقریباً تین چار روز کی بات ہے مجھے چوہدری عبدالرشید صاحب آکر ملے کچھ پریشان سے تھے کہ اس کا ہمیں پتا ہی نہیں لگا یہ تو بڑی دیر سے یہ لوگ شائع کرتے پھر رہے ہیں اور کافی عرصہ ہو گیا ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے۔میں نے کہا فوراً ان سے رابطہ کر ان کو کہو ہمیں منظور ہے۔اگر چہ ہمارا موقف یہی ہے کہ اس قسم کی انہوں نے جو مشارکتیں بنائی ہوئی ہیں اس کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف اس اتفاق کی ضرورت ہے ذہنی طور پر کہ ہم خدا کے حضور اپنا سب کچھ اپنے مال و دولت، اپنی عزتیں ، اپنے بچے، اپنے مرد، اپنی عورتیں لے کر حاضر ہو جاتے ہیں۔یہ نہیں کہ کسی خاص جگہ پر ان سب کو سمیٹ کر گلوں کی طرح حاضر ہور ہے ہیں بلکہ خدا کے حضور پیش کر رہے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! اگر ہم جھوٹے ہیں تو ہم پر لعنت کر اور اگر ہمارے دشمن جھوٹ بول رہے ہیں اور وہ ظلم سے باز نہیں آرہے تو ان پر لعنت کر۔یہ مضمون ہے جس کی رو سے ہم تو مباہلہ میں داخل ہو چکے ہیں لیکن چونکہ آپ کا اصرار ہے اور آپ ہی