خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 866 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 866

خطبات طاہر جلدے 866 خطبه جمعه ۲۳ / دسمبر ۱۹۸۸ء دوسرا معنی یہ ہے کہ اگر خدا سے بھاگنے کی کوشش کرو گے تو خبر دار! خدا سے بھاگ نہیں سکو گے۔خدا کی تقدیر تمہیں ہر جگہ کھڑی دکھائی دے گی اور تمہارے رستے روک دے گی تمہیں کسی قیمت پر کوئی سمت ایسی نظر نہیں آئے گی جہاں خدا کے سوا بھاگ کر کہیں جاسکتے ہو۔وہی فقیر والی بات پھر بھی یاد آجاتی ہے بڑی دلچسپ بات تھی کہ جس فقیر نے ایک دفعہ یہ بڑا مستانہ نعرہ بلند کیا کہ ہم نے خدا کو کہہ دیا ہے۔پوچھنے والے نے پوچھا کے کیا کہ دیا ہے تم نے خدا کو۔اس نے کہا کہ ہم نے کہہ دیا ہے کہ تیری دنیا ہمیں پسند نہیں آئی۔دو تین دن کے بعد اسی فقیر کو دیکھا کسی نے کہ سر جھکائے ، مضحل، چہرہ افسردہ۔اس نے کہا آج تمہیں کیا ہوا ہے کل پرسوں تک تو تم بڑی ڈینگیں مارر ہے تھے کہ ہم نے کہہ دیا تھا خدا کو۔اس نے کہا خدا کا جواب آگیا ہے، کہ کیا جواب آیا ہے؟ جواب یہ آیا ہے کہ پھر جس کی دنیا پسند آئی ہے اس کی دنیا میں چلے جاؤ۔کیسا عجیب جواب ہے، کیسا عارفانہ کلام ہے۔خدا کے سواد نیا ہی کسی کی نہیں ہے اَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللہ کی تفسیر ہے جو اس کو عطا فرمائی گئی ہے۔تو جاؤ گے کہاں نہیں جہ پسند آئے گی تو تب بھی یہیں رہنا پڑے گا یہی قناعت ہے یا مجبورا قہر اور جبرا اپنے دل کو مجبور کرتے ہوئے تمہیں خدا ہی کی دنیا میں رہنا پڑے گا اور کوئی دنیا نہیں ہے جو تمہیں پناہ دے سکے گی یا پھر دوسرے رستے کے ذریعے آؤ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے جب ہم نے کائنات کو بنایا تو اسے کہا کہ آجاؤ میری طرف طَوْعًا أَوْكَرْهًا ( حم سجدہ:۱۲) آنا تو تمہیں ہے بہر حال اور کوئی جگہ ہی نہیں جانے کی۔تم نے بالآخر میری طرف لوٹنا ہے طوعا اوگرھا یا جبر کی صورت میں آؤیا اطاعت کرتے ہوئے محبت اور شوق سے چلے آؤ۔تو اس لئے قناعت جو اسلام پیش کرتا ہے اس کا مضمون یہ ہے کہ تم محبت کی قناعت اختیار کرو، رضا کی قناعت اختیار کرو اس میں تمہارے لئے جنت ہے۔ورنہ تمہارے لئے چارہ کوئی نہیں کیونکہ جو کچھ تم چاہتے ہو خدا کی مرضی کے سوا تمہیں نصیب پھر بھی نہیں ہو سکے گا۔تم دنیا کی طرف بھا گو گے لیکن خدا کی تقدیر تمہیں خدا کی تقدیر سے بھاگنے نہیں دے گی۔جس چین اور جس سکون کی تم تلاش کر رہے ہو وہ سکون اور وہ چین تم سے آگے آگے بھاگے گا، تمہیں چڑا تا ہو تمہیں اور دکھ دیتا ہوا وہ تمہارے ہاتھ کبھی بھی نہیں آسکے گا۔پس جماعت کو قناعت کے مضمون کو خود سمجھنا چاہئے اور توحید کے ساتھ جو اس کا تعلق ہے اس کو اچھی طرح زیر نظر رکھنا چاہئے ، دل نشین کرنا چاہئے کیونکہ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ عہد کئے ہوئے ہیں کہ خدا کی تو حید کو قائم کرنے کے لئے ہر طرح سے تیار ہو کر اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے سج کر ہم اگلی صدی میں داخل