خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 839
خطبات طاہر جلدے 839 خطبه جمعه ۹ / دسمبر ۱۹۸۸ء آئیں گے کہ آپ کا دل بیٹھنے لگے گا اس کیفیت سے لیکن حوصلہ نہیں ہارنا کیونکہ قرآن کریم نے اس کا جواب آپ کو عطا فرما دیا ہے۔فرمایا فَفِرُّوا اِلَی اللہ اس صورت میں اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اپنے رب کے حضور دوڑو اور اس سے عرض کرواے خدا! ہم تو ہر طرف سے گھیرے میں آئے ہوئے ہیں۔ہر طرف ہم نے اپنے اندر گند دیکھا ہے اور نقص دیکھے ہیں ، بیماریاں پائی ہیں اب تیرے سوا ہمارا کوئی ملجاء اور مادی نہیں ہے ہماری ہر اس بیماری اور مخفی درمخفی بیماری سے ہمیں بچا اور اپنی پناہ میں لے لے، اپنی گود میں اٹھا لے۔یہ مضمون جو ہے یہ بھی بہت عظیم الشان مضمون ہے اس کے بعد پھر اگلا سفر کیا شروع ہوتا ہے وہ انشاء اللہ میں آئندہ کسی خطبہ میں بیان کروں گا لیکن ہر چھوٹے بڑے کو اس فجور کے علم کا سفر لازماً اختیار کرنا چاہئے اور بڑی توجہ سے اختیار کرنا چاہئے اور بڑی باریک نظر سے اختیار کرنا چاہئے تب اس کو پتا چلے گا کہ جو غیر کی نظر جو اس کو بجھتی تھی اگر وہ بد بجھتی تھی تو اس سے بہت زیادہ اس نے اپنے آپ کو بد پایا اور اگر وہ نیک سمجھتی تھی تو اس کے جواب میں آپ اس کے سامنے یہی کہیں گے کہ سوائے خدا کے کوئی نیک نہیں ہے اور میں نے تو اپنے اندر کمزوریوں کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھا۔یہ وہ مقام عجز ہے جس طرف یہ تقویٰ آپ کو لے کر جاتا ہے اور جس کے بعد خدا کے سوا کوئی سہارا دکھائی نہیں دیتا، کوئی ذاتی نیکی آپ کے کام نہیں آسکتی اور یہ پہلا تو حید کا سبق ہے جو انسان کو اس طرح میسر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توحید کے اعلیٰ مطالب تک آگاہی بخشے اور اپنے فضل کے ساتھ ان بلند تر چوٹیوں کو سر کرنے کی توفیق عطا فرمائے جن کی طرف اب ہم اس حالت میں دیکھیں تو اوپر دیکھتے ہوئے پگڑی گرتی ہے، اتنی دور کی منازل دکھائی دیتی ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے ہماری استطاعت نہیں ہے کہ ہم اس تک پہنچ سکیں۔