خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 837 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 837

خطبات طاہر جلدے 837 خطبہ جمعہ ۹ / دسمبر ۱۹۸۸ء نہیں۔اس لئے غیر جب آپ کو آپ کے نقائص بتائے گا تو وہ نقائص بتائے گا جن سے آپ مغلوب ہو چکے، جن کے سامنے آپ نے اپنی بازی ہار دی ہے۔وہ نقائص جن سے آپ کی جنگ جاری ہے اس کا تو خدا اور خدا کے فرشتوں کے سوا جو اس بات پر مقرر ہیں کسی کو کچھ علم نہیں ہاں آپ کو علم ہوسکتا ہے کیونکہ خدا فرماتا ہے فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوبِهَا اگر کوئی انسان چاہے تو ہم یقین دلاتے ہیں کہ ہم نے الہام کیا اس کے اوپر ، ہم نے اس کو باخبر کر دیا ہے بلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيْرَةٌ قُ وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيْرَهُ (القیامة : ۱۵-۱۶) خبردار! انسان اپنے اندرونے سے خوب واقف ہے وَلَوْ الْقَى مَعَاذِيرَهُ خواہ کتنے بڑے بڑے عذر تراش کے وہ پیش کرے کہ نہیں نہیں مجھے تو کچھ پتا نہیں تھا مجھ سے تو یہ بات یوں ہو گئی ، مجھ سے تو یہ بات یوں ہو گئی۔جب خدا فرماتا ہے کہ ہم نے سب کچھ تمہیں بتا دیا ہے تو پھر خدا اور اس کے مقرر کردہ فرشتوں کے بعد ہر انسان کو اپنے فجور کا پتا ہے اور اس کے غیر کو اس کا کچھ پتا نہیں۔اس لئے وہاں سے کام شروع کریں جہاں ابھی آپ کے اختیار میں ہے۔جب یہ جراثیم غالب آجاتے ہیں پھر تو آپ بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں پھر تو آپ کو متلی کی شکایت ہو جاتی ہے ،سر درد ہوتی ہے، جوڑ جوڑ ٹوٹتا ہے ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ آپ اپنے آپ کو سنبھال ہی نہیں سکتے۔اتنے تھوڑے سے جراثیم کہ جسم کے کسی ایک حصے میں اتنی مقدار میں موجود ہیں کہ ان کو عام کسی چیز پر تکڑی پر تو لیں تو آپ تو ل بھی نہیں سکتے۔خاص قسم کی وہ حس والی تکڑیاں ان کے لئے ایجاد کی جاتی ہیں اور وہ آپ پر غالب آئے ہوئے ہیں، سارے جسم کا حلیہ بگاڑ دیا ہے انہوں نے لیکن اگر پہلے پتا چل جائے جب وہ ابھی داخل ہورہے ہیں اور کام کر رہے ہیں اس وقت اگر جسم ان کے خلاف رد عمل کر دے تو پھر ضرور ان پر وہ قابو پاسکتا ہے۔اور عجیب شان ہے قرآن کریم کی اس آیت کی کہ جسم کو ہر بیماری کا پہلے پتا چل جاتا ہے سوائے اس کے کہ کوئی جسم اپنی عادتیں بگاڑ کر خود اپنے فجور سے غافل ہونا سیکھ لے ورنہ ہر انسانی جسم کو ان بیماریوں کے آغاز پر اس کا پتا چل جاتا ہے اس کے شعور کو پتا نہ بھی ہولیکن اس کے لاشعور کو پتا چل جاتا ہے۔بعض دفعہ لاشعور کو بھی کچھ پتا نہیں ہوتا لیکن وہ فوج جو خدا نے انسانی خون میں بنائی ہوئی ہے جس کا انسانی دماغ سے کوئی تعلق نہیں اس فوج میں جو خدا نے الہام کیا ہوا ہے اور وہ فوج ایسی ہے جس کی بیشمار چھاؤنیاں ہیں، بیشمار ان کی رجمنٹس ہیں جہاں وہ پیدا کی جاسکتی ہے اور اچانک تھوڑے