خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 836 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 836

خطبات طاہر جلدے 836 خطبه جمعه ۹ / دسمبر ۱۹۸۸ء تک پہنچنے کے لئے ہم سب کو محنت کرنی پڑے گی ، ہم سب کو اس میں حصہ لینا پڑے گا جانفشانی کے ساتھ محنت اور خلوص کے ساتھ اور اس کا آغاز اپنے نفس سے کرنا ہو گا۔یہ سفرور نہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔اس لئے اپنی دل کی سچائی کو ڈھونڈ میں اور اپنے دل کی سچائی کو ڈھونڈ کر اس سے چمٹ جائیں اس سے کبھی علیحدہ نہ ہوں۔بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن بہت ہی بڑی بات ہے۔لاکھوں انسانوں میں آپ کو شاید ایک آدمی ایسا دکھائی دے گا جو حقیقتہ دل کی سچائی سے چمٹا ہوا ہے۔باقی کچھ قریب رہتے ہیں کچھ کبھی پاس آگئے کبھی بھاگ گئے جس طرح مرغی کے چوزے کبھی ڈرتے ہیں تو ماں کے پروں کے نیچے بھی آجاتے ہیں پھر دور بھی ہٹ جاتے ہیں، کبھی بلی کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔تو دل کی سچائی وہ چوزوں کی ماں مرغی ہے جس کے ساتھ رہنے، جس کی حفاظت میں رہنے کا شعور آپ کو سیکھنا ہوگا اور یہ شعور اپنے نفس میں ڈوبنے کے ذریعے آپ کو حاصل ہوتا ہے اور اس کا علم آپ کو اپنی زندگی کے ہر حرکت اور ہر سکون میں حاصل ہو جاتا ہے کیونکہ ایک بھی آپ کا ارادہ ایسا نہیں ، ایک بھی آپ کی حرکت ایسی نہیں جس سے پہلے آپ کا نفس یہ فیصلہ کر نہیں چکا ہوتا کہ آپ نے سچائی کو پکڑنا ہے کہ جھوٹ کو پکڑنا ہے۔تقویٰ کی راہ اختیار کرنی ہے یا فجور کی راہ اختیار کرنی ہے۔تو روزانہ بعض دفعہ سینکڑوں بعض دفعہ ہزاروں مواقع ایسے پیدا ہورہے ہوتے ہیں جبکہ خدا اس اندرونی کسوٹی کو آپ کے سامنے رکھتا چلا جا رہا ہے اور آنکھیں بند کر کے آپ اس کو ہاتھ بھی لگاتے ہیں، معلوم بھی کر لیتے ہیں کہ اس کا کیا فیصلہ ہے اور پھر آنکھیں بند کر کے ہی اس سے گزر جاتے ہیں، دیکھتے نہیں کہ اس کسوٹی نے کیا رنگ آپ کو دکھایا تھا۔کیا نور کا ، روشنائی کا رنگ تھا یا اندھیرا اور تاریکی کا رنگ تھا۔اس لئے دل سے پہلے اپنا تعلق جوڑیں اور اس فطری تقویٰ سے تعلق قائم کرنے کے لئے اپنے فجور کا علم کریں۔گہری نظر سے اپنے نفس کا تجزیہ کریں، باہر سے کوئی آنے والا آپ کو نہیں بتائے گا کہ آپ کے اندر کیا نقائص ہیں وہ انہی نقائص کی بات کرتا ہے جو کھل کر منظر عام پر آچکے ہوتے ہیں اور گلیوں میں پھرتے ہیں جو دوسروں کے گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ان نقائص سے وہ بے خبر ہے ہر دوسرا انسان جو دل میں پلتے ہیں اور پرورش پا رہے ہوتے ہیں اور ان جراثیم کی طرح جن کو ابھی قوت نصیب نہیں ہوتی لیکن وہ خاموشی سے کسی جگہ بیٹھ کر بڑی کثرت کے ساتھ نشو و نما پا رہے ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ غالب آتے ہیں۔ان حالتوں کا اس کو اندازہ