خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 834
خطبات طاہر جلدے 834 خطبه جمعه ۹ر دسمبر ۱۹۸۸ء تمہیں کوئی خوف محسوس ہو اپنا رخ خدا کی طرف رکھنا اور اسی کو اپنی آخری منزل سمجھنا تو غیر اللہ سے بھاگ کر خدا کی طرف آنا یہ تو حید کا پہلا سبق ہے جو ہمیں تقویٰ نے سکھایا۔ہر غیر اللہ سے خدا کی طرف دوڑنا۔اب غیر اللہ کون ہے اس کا شعور ہر انسان کا الگ الگ ہے۔اسی لئے میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ قرآن کریم نے جب فرمایا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوتها تو جو لفظ پہلے ہے پہلے اس کو سمجھ لیں پھر تقویٰ کے دوسرے مضمون کی سمجھ آئے گی۔پہلا جو حصہ ہے فجور کے شعور کا اس کے بغیر صحیح معنوں میں آپ کو تو حید کی اس منزل کی بھی پوری آگا ہی نہیں ہوسکتی۔ہر شخص جو کسی برائی یا بدی سے بھاگ کر خدا کی طرف جاتا ہے وہ توحید کی طرف جاتا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن بہت سی ایسی خوف کی اور باتیں بھی ہیں جن سے وہ نہیں بھاگا۔اس لئے تو حید ایک ہوتے ہوئے بھی دراصل اس کے لئے ایک نہیں رہتی۔بہت سے تو حید کے ایسے عرفان ہیں جن سے وہ واقف نہیں اور اس کے نتیجے میں غیر اللہ سے اس کا تعلق قائم رہتا ہے۔اس لئے ہم نے چونکہ یہ عہد کیا ہے کہ تمام دنیا کو تمام بنی نوع انسان کو امت واحدہ بنانا ہے اسی لئے جماعت احمدیہ کو تو حید کے مضمون پر بہت گہرے غور اور فکر کی ضرورت ہے اور جتنا آپ زیادہ اس کا علم پائیں گے اور میں آپ کو یہ بتا دیتا ہوں کہ تقویٰ کی راہ کے بغیر آپ کو تو حید نہیں مل سکتی۔وہی قرآن آپ پڑھیں گے آپ کو نہیں سمجھ آئے گی وہ کیا کہہ رہا ہے۔وہی حدیث آپ پڑھیں گے آپ کو کچھ سمجھ نہیں آئے گی۔وہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں آپ کے زیر مطالعہ ہوں گی لیکن آپ کو نہیں سمجھ آئیں گی کیونکہ تقویٰ ہی وہ روشنی ہے جو تو حید کی راہ دکھاتی ہے۔تقویٰ وہ اندرونی نور ہے جس کے ذریعے ، جس مشعل کو ہاتھ میں لے کر آپ ساری روحانی مسافتیں طے کرتے ہیں۔تو اس ضمن میں جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا تقویٰ کا سفر جو تو حید کی طرف شروع کرنا ہے اس کو پہلے اپنے دل سے شروع کریں اور خدا نے آپ کے اندر جو سچائی چھاپی ہوئی ہے اور ایک لمبے عرصہ سے آپ کو سچائی پر چلایا ہے۔جانور کیوں جھوٹ نہیں بولتے ، جو کچھ ہے وہی بیان کرتے ہیں ، ناراض ہیں تو ناراض ہوں گے، خوش ہیں تو خوش ہوں گے ان کے اندر کوئی منافقت نہیں پائیں گے آپ۔اتنا لمبا عرصہ خدا نے برکار تو ان چیزوں کو اس طرح پیدا کیا نہیں تھا، بریکار تو نہیں اس منزل پر چلایا تھا۔اُولی الالباب کے متعلق خدا فرماتا ہے جب وہ غور کرتے ہیں کا ئنات