خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 821
خطبات طاہر جلدے 821 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۸ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں نے پہلے سے بڑھ کر عبادت کے چراغ روشن کئے ہیں۔اور صبح کس کو کہتے ہیں؟ عبادت سے دل خالی ہوں یعنی سچی عبادت سے اور خدا کے عشق میں معمور عبادت سے تو دراصل وہی دل ہیں جو تاریکی میں وقت گزار رہے ہیں۔وہی لوگ ہیں جن پر سنجیں طلوع ہوا کرتی ہیں اللہ کی رحمت کی جن کے دلوں میں عبادت کا نور جاگ اٹھتا ہے اور جن کی راتیں اس عبادت کے نور سے روشن ہو جایا کرتی ہیں۔دنیا کے پیمانوں کے لحاظ سے آپ پیرس کو روشنیوں کا شہر کہہ دیتے ہیں یا نیو یارک کو روشنیوں کا شہر کہ دیتے ہیں یا ماسکوکوروشنیوں کا شہر کہہ دیتے ہیں اور پاکستان کے لحاظ سے کراچی کو بھی روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے روشنیوں کا شہر وہی شہر ہے جس میں بسنے والوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور پر خلوص عبادت کے چراغ روشن ہوں۔اس نقطہ نگاہ سے جب سارے پاکستان پر ایک رات طاری تھی اور آج بھی وہ رات اسی طرح طاری ہے کیونکہ جہاں عبادت ہوتی تھی وہاں اس تاریک دور نے اس عبادت کو منافقت میں تبدیل کر دیا تھا اور خالصہ اللہ کی جو شرط قرآن کریم نے لگائی ہے وہ شرط اس عبادت پر اطلاق نہیں پاتی تھی۔پس پاکستان میں دو طرح کے ماحول تھے یا عبادت کرنے والے لوگ تھے یا نہیں عبادت کرنے والے لوگ تھے۔جو عبادت نہیں کیا کرتے تھے ان پر جب جبر کیا گیا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ عبادت سے متنفر ہو گئے اور جو لوگ عبادت کیا کرتے تھے دن رات کسی حکومت کی خوشنودی کی خاطر نہیں ان کی عبادتوں میں حکومتوں کی خوشنودی کی نیتیں شامل ہوگئیں اور پریس کے نمائندوں کے سامنے باجماعت نماز پڑھتے ہوئے تصویر کھنچوانے کا شوق ان کی عبادتوں کی نیتوں میں شامل ہو گیا۔اب سارا ملک اس لحاظ سے ریا کاری کا شکار ہو گیا ہے یا عبادت کو حاکم وقت کی خوشنودی کمانے کا ذریعہ بنایا جانے لگا۔تو ایک طرف وہ لوگ تھے جن کی بظاہر صبح تھی اور ان کی حقیقت میں قرآنی اصطلاح کے پیمانوں سے جانچیں تو دراصل ان پر ایک رات طاری تھی اور وہ جن کو وہ کہتے تھے کہ ان پر ہم نے راتیں مسلط کر دی ہیں اور اب یہ اس رات سے کبھی بھی باہر نہیں نکل سکیں گے۔اب قرآن اصطلاحی پیمانوں سے دیکھیں یا کہ نظریہ سے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دن بدن احمدیوں کے لئے سورج تو نہیں میں کہہ سکتا لیکن یہ کہہ سکتا ہوں کہ دن بدن احمدی اندھیروں سے روشنی میں نکلتے