خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 820
خطبات طاہر جلدے 820 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۸ء یعنی ہر قسم کی سوسائٹی سے انہوں نے رابطہ پیدا کیا اور ایک دن کے اندر اندر ہی ان کی کایا پلٹ گئی۔تو جس ربوہ کو ہم اپنے نقطہ نگاہ سے تنقید کی نظر سے دیکھتے ہیں بیرونی لوگ جب اس ربوہ کو دیکھتے ہیں تو ان کو بالکل کچھ اور دکھائی دیتا ہے۔ہمیں اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ ہمیں جو کچھ دکھائی دینا چاہئے اس سے کم تر ہے اور وہ دوسرے اس نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں کہ باہر جو کچھ بھی دیکھتے رہے ہیں اس کے مقابل پر نور ہی نور ہے۔اس لئے اس گیارہ سالہ دور میں بھی اہل ربوہ نے کمایا ہے گنوایا نہیں ہے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں۔بہت سی بدیاں جو معاشرے میں بڑھی ہیں کچھ ان بدیوں نے ربوہ میں بھی راہ پائی لیکن بہت تھوڑی ہے۔یہ جو اثر کا دائرہ ہے وہ بہت چھوٹا ہے اور معدودے چند لوگ ہیں جو ان سے متاثر ہوئے لیکن چونکہ ہم ایک کو بھی ان بدیوں سے متاثر نہیں دیکھنا چاہتے اس لئے جب اصلاحی خطبے دیئے جاتے ہیں تو ان کا ذکر تکلیف اور دکھ کے ساتھ کیا جاتا ہے لیکن جہاں تک عبادتوں میں ترقی کا تعلق ہے مجھے مسلسل مختلف ربوہ جانے والوں کی طرف سے اطلاع ملتی ہے کہ ایک چیز جو نمایاں ربوہ میں دیکھی وہ یہ تھی کہ پہلے کبھی بھی مسجدیں اتنی نہیں بھری ہوتی تھیں جتنی اب بھری ہوتی ہیں اور اس لحاظ سے مجھے وہ مبارکباد دیتے تھے کہ مسجدوں کا جہاں تک تعلق ہے ان کی رونق میں خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلسل اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔اب یہ وہ چیز ہے حقیقت میں جو روشنی کا پیمانہ ہے۔عبادت ہی سے دراصل نور پیدا ہوتا ہے اور عبادت ہی سے روشنی پیدا ہوتی ہے۔اس لئے جس دور کو دکھوں کے اعتبار سے اور مصیبتوں کے اعتبار سے ہم رات کہتے ہیں مذہبی اصطلاح میں وہ رات بھی ہمارے لئے روشنیاں لے کے آئی ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے عبادت کا معیار صرف ربوہ ہی میں نہیں بلکہ سارے پاکستان میں احمدیوں میں بڑھا ہے۔شاذ ہی کوئی دن ایسا آتا ہو جب مجھے یہ اطلاع نہ ملتی ہو کسی طرف سے کہ میں پہلے عبادت نہیں کیا کرتا تھا، میں فلاں نماز سے غافل تھایا پانچوں نمازوں کا ہی تارک تھا اس قسم کی اطلاعیں لکھنے والے لکھتے ہیں لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں عبادت میں غیر معمولی ذوق شوق پاتا ہوں اور بہت ترقی کر چکا ہوں اور اپنے ماحول کے متعلق لوگ اطلاعیں دیتے ہیں۔اس لئے ایک جگہ ایک شہر کی بات نہیں میں کر رہا سارے پاکستان میں، ہر گاؤں میں، ہر بستی میں ، ہر قصبے میں ، ہر شہر