خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 819 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 819

خطبات طاہر جلدے 819 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۸ء کہ وہاں حکومت پاکستان کے نمائندہ یا دوسرے جتنے بھی لوگ مجھے ملنے والے ملا کرتے تھے وہ مجھے بار بار یہ یقین دلاتے تھے کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں اور آپ ہرگز اس دھو کے میں نہ آئیں کہ یہ جماعت مسلمانوں کی جماعت ہے اور یہ کہا کرتے تھے کہ ربوہ ایک ایسا ذلیل شہر ہے جو سب سے زیادہ خوفناک اور اسلامی قدروں سے دور ہے اس لئے ہم جو کچھ بھی قدم اٹھا رہے ہیں احمدیت کے خلاف یار بوہ کے برخلاف ہم اپنے مذہبی نظریات سے مجبور ہو کر ایسا کر رہے ہیں۔اس لئے یہ لوگ ہمارے او پر ایک داغ ہیں۔یہ باتیں مجھے بیان کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ میں نے یہاں آکر دیکھا ہے اور یہاں آنے کے بعد جس کیفیت سے میرا دل گزرا ہے اس کے نتیجے میں میں گواہی دیتا ہوں اور میں ہر جگہ یہ گواہی دینے کے لئے تیار ہوں کہ اگر کہیں دنیا میں اسلام موجود ہے تو وہ ربوہ میں ہے اور اگر پاکستان میں کوئی معاشرہ خوبصورت اور صاف اور پاکیزہ کہلانے کا مستحق ہے تو وہ صرف ربوہ میں ہے۔چنانچہ اس کے بعد وہ اس عہد پر قائم رہے جب واپس گئے اسلام آباد تو ہمیں اطلاعیں ملتی رہیں کہ جس مجلس میں وہ بیٹھے ہیں انہوں نے یہی بات کھل کر بیان کی ہے۔شاید یہی وجہ تھی کہ زیادہ دیر وہاں وہ سفیر نہیں رہ سکے اور ان کو واپس بھجوا دیا گیا یا بلا لیا گیا۔جب میں سری لنکا گیا تو وہ خود ہوائی اڈے پر تشریف لائے ہوئے تھے ، اپنے رنگ میں میرے اعزاز کی خاطر اور ان کے آنے سے سہولتیں بھی بہت ہوئیں اور پھر سارے قیام کے عرصے سری لنکا میں وہ ہمیشہ ساتھ رہے اپنے طور پر۔حکومت نے مقرر نہیں کیا تھا لیکن ان کو احمدیت سے ایسی محبت ہو گئی تھی کہ وہ رہ نہیں سکتے تھے۔کینڈی ایک بہت خوبصورت جگہ ہے جب ہم یہاں گئے تو اصرار کیا کہ اس عرصے میں آپ میرے مہمان ہوں گے اور وہاں ہر قسم کی مقامی طور پر چیزیں دیکھنے کی یا دوسری سہولتیں مہیا کیں اور ایک ایسا موقع بھی فراہم ہوا ان کی وجہ سے جو دنیا میں شاذ ہی سیاحوں کو ملتا ہے۔یعنی بدھ ازم کے جو نا ئب بادشاہ Deputy King کہلاتے ہیں اور بدھ دنیا کی بہت ہی عظیم شخصیت ہیں، بڑی طاقتور شخصیت ہیں ان کے ساتھ ملاقات کا بھی موقع ملا اور دنیا کی عام حکومتوں کے نمائندوں سیاحوں کو بھی نہیں ملا کرتا۔تو میں یہ بتارہا ہوں کہ یہ سارا جو پھل تھا یہ ربوہ کی ایک مختصر سی زیارت کا پھل تھا۔انہوں نے ربوہ دیکھا، اہل ربوہ سے ملے، ربوہ کے بازاروں میں گھومے، غریبوں کو دیکھا ، امیروں کو دیکھا