خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 818 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 818

خطبات طاہر جلدے 818 خطبه جمعه ۲ / دسمبر ۱۹۸۸ء تاریخ میں کبھی اسلام کو کسی دور میں اتنا نقصان نہیں پہنچایا گیا جتنا اسلام کے نام پر آنے والی اور مسلط ہونے والی اس آمریت کے دور میں اسلام کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔تو آپ دیکھیں کہ اچانک منظر کس طرح بدلا ہے۔جن کی صبح ہے دراصل ان کی رات ہے اور میں آپ کو بتاؤں گا کہ جن کی رات کہا جارہا ہے دراصل ان کی صبح ہے۔چنانچہ احمدیوں کا نقطہ نظر ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بظاہر تاریک رات سے گزرتے ہوئے ہم نے خدا تعالیٰ کے قرب کی روشنیاں پائیں ہیں۔ہم نے عبادتوں سے اپنے گھروں کو روشن کیا اور مساجد میں عبادتوں کے چراغ جلائے۔جس طرح ایک پوجا کرنے والا دیئے کی بتی روشن کر کے بتوں کے سامنے رکھتا ہے اس سے کہیں زیادہ عقیدت اور محبت اور توحید کے عشق سے معمور ہو کر ہر احمدی نے اپنے سینے میں خدا کی عبادت کے دیئے جلائے اور اپنے سینوں کو بھی روشن کیا، اپنے گھر کے ماحول کو بھی روشن کیا۔گزشتہ بعض اصلاحی خطبوں میں میں آپ کے سامنے ذکر کرتا رہا ہوں کہ اہل ربوہ خصوصیت کے ساتھ میرے لئے باعث فکر ہیں کہ ان میں یہ خرابی بھی بعض جگہ داخل ہو رہی ہے، بعض جگہ یہ خرابی بھی داخل ہو رہی ہے۔وہ اس لحاظ سے میں تنقید کرتا تھا کہ جن سے محبت ہو، جن سے پیار ہو، جن سے توقعات ہوں جنہیں انسان سفید روشن کپڑے کے طور پر دیکھنا چاہتا ہو ان کے چھوٹے چھوٹے داغ بھی دکھ دیتے ہیں اور تکلیف پہنچاتے ہیں۔ہرگز یہ مراد نہیں تھی کہ نعوذ باللہ غیروں کے مقابل پر یعنی پاکستان کے دوسرے شہروں کے مقابل پر اہل ربوہ کی حالت دینی اور اخلاقی لحاظ سے کسی پہلو سے بھی بد ہے یا بد تر ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ سارے دور میں اگر کوئی ایک شہر پاکستان میں اسلامی شہر کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا تو ربوہ ہی تھا اور آج بھی ربوہ ہی ہے۔باہر سے جانے والے بعض غیر مسلم سیاحوں نے واپسی پر خود مجھے بتایا کہ ہم نے پاکستان کے بہت سے شہر دیکھے لیکن سب سے زیادہ صاف اور پاک معاشرے والا شہر ہمیں ربوہ دکھائی دیا ہے اور اتنا فرق ہے کہ ہمیں یوں محسوس ہوتا تھا کہ یہ پاکستان کا شہر ہی نہیں ایک جزیرہ ہے جو اس ملک میں آباد ہے۔ایک موقع پر سری لنکا کے ایک سفیر پاکستان میں متعین تھے۔جب یہ آغاز ہوا ہے مخالفتوں کا زیادہ ان دنوں کی بات ہے۔ان کو میں نے دعوت دے کر ربوہ بلایا اور مل کے جب وہ رخصت ہورہے تھے تو انہوں نے یہ کہا