خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 817 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 817

817 خطبه جمعه ۲ دسمبر ۱۹۸۸ء خطبات طاہر جلدے ہوں۔میں جو بات آپ کو سمجھانی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہم خدا کی رحمت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ضرور ان تبدیلیوں کو احمدیوں کے حق میں ایک صبح کی طرح ظاہر فرمائے گا اور یہ تبدیلیاں نئی روشنی احمدیت کے لئے لے کے آئیں گی اور مظالم کی اندھیری رات انشاء اللہ مل جائے گی لیکن اپنی ذات میں یہ ہمارا مقصد نہیں ہے۔اپنی ذات میں یہ کامیابی ہمارے لئے کافی نہیں ہے کیونکہ ہم ایک عالمی جماعت ہیں، ہمارا صح نظر بہت وسیع ہے، ہمارا مقصود بہت اونچا ہے اس مقصود سے آپ غافل نہ ہوں اور یاد رکھیں کہ جس صبح کی ہم بات کرتے ہیں اس کی صفات عام دنیا کی صبحوں سے مختلف ہوا کرتی ہیں۔چنانچہ اس نقطۂ نگاہ سے جب میں نے حالات پر غور کیا تو میں نے یہ عجیب بات معلوم کی کہ پاکستان کے احمدیوں پر یہ جو گیارہ سالہ رات مسلط ہوئی تھی اس گیارہ سالہ رات میں ہم نے حقیقت میں اندھیروں کی بجائے روشنیاں پائیں ہیں اور جن لوگوں کے لئے وہ صبح تھی انہوں نے اس میں اندھیروں کے سوا کچھ بھی نہیں پایا۔اس لئے جب ہم انسانی محاوروں میں بات کرتے ہیں تو بہت سے دھو کے کھا جاتے ہیں۔میں آپ کے سامنے یہ معاملہ کھول کر رکھنا چاہتا ہوں کہ ہم نے کیا پایا اور کیا کھویا جب مذہبی اور روحانی نظر سے اس بات کا تجزیہ کریں تو اچانک ہم ساری کیفیت کو بالکل الٹتا ہوا دیکھتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کلیڈ وسکوپ کی حرکت سے منظر بدل جاتا ہے اس طرح اچانک پاکستان میں جو کچھ ہوا اس کا منظر یک دفعہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا اس گیارہ سال میں۔اس کو جب آپ حقیقت کی نظر سے دیکھتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس عرصے میں جن لوگوں نے ہم پر مظالم کئے ، جن لوگوں نے ہمیں دکھ دیئے انہوں نے حقیقت میں سچائی کو اپنے ہاتھ سے کھو دیا۔انہوں نے ہر اعلیٰ انسانی قدر کو اپنے ہاتھ سے کھو دیا۔وہ دن بدن خود اپنی ہی پوجا کرنے والوں کی نظر میں ذلیل سے ذلیل تر ہوتے چلے گئے۔ان کے اس ڈرامے کے سٹیج سے چلے جانے کے بعد وہ لوگ جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے انہوں نے ان پر لعنتیں ڈالنی شروع کیں۔تمام ملک کے صحافیوں اور دانشوروں نے پہلے دبی آواز میں پھر کھل کر پھر خوب کھل کر اس دور کی جس کو وہ صبح کہا کرتے تھے اس کی تاریخ میں باتیں لکھنی شروع کیں اور اس تاریخ کی حقیقت کو قلمبند کرنا شروع کیا جسے ایک روشن تاریخ کہا جاتا تھا اور یہ کہنے لگے کہ اسلام کی ان