خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 76

خطبات طاہر جلدے 16 76 خطبه جمعه ۵/فروری ۱۹۸۸ء ہیں۔اپنی گفتگو میں انہوں نے بار بار خدائے واحد و یگانہ کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ ان کے نزدیک تمام دنیا میں فساد کی وجہ خدائے واحد ویگانہ سے محبت میں کمی اور اس سے دنیا کا دور چلے جانا ہے۔اب میں اپنے مختصر دورے کے تجربے کے متعلق آپ سے کچھ باتیں کہنی چاہتا ہوں۔میں نے اس دورہ میں محسوس کیا ہے اس ملک کے باشندے بہت شریف النفس ،صاف گو اور کھلے دماغ کے لوگ ہیں اور تعصبات سے کلیۂ پاک ہیں۔بہت سے غیر احمدی دوستوں سے بھی گفتگو کا موقع ملا یعنی انہوں نے جو سوال کئے ان کا جواب دینے کی توفیق ملی اور یہ دیکھ کر میں حیران ہوا کہ باوجود اس کے کہ شروع میں سوال میں شدت پائی جاتی تھی اور سختی محسوس ہوتی تھی۔لیکن جواب سن کر فوری طور پر اسکی تائید میں سر ہلانے لگ جاتے اور جو بات سمجھ میں آجاتی اسے بخوشی قبول کر لیتے تھے۔یہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ کوئی قوم تعصبات سے پاک ہو اور جس طرف روشنی نظر آئے اس طرف جانے کے لئے آمادہ ہو اس لحاظ سے میں آپ کی قوم کا مستقبل بہت روشن دیکھ رہا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی قوم کا یہ کردار بنانے میں آپ کے معزز صدر کی ذاتی شرافت اور توجہ اور مسلسل محنت کا بھی بہت حد تک دخل ہے۔چنانچہ انہوں نے گفتگو کے دوران مجھ سے بار بار اس بات کا ذکر کیا کہ نہ تو وہ خود کسی قسم کا تعصب رکھتے ہیں نہ کسی قیمت پر اپنے ملک میں کسی تعصب کو فروغ دینے کی اجازت دے سکتے ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ میں خدائے واحد سے سچا پیار کرتا ہوں اور کسی طرح یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ خدائے واحد کے نام پر لوگ آپس میں ایک دوسرے سے لڑیں اور خدائے واحد کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف فتنے پیدا کریں۔اس لئے اس ملک میں اس امر کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے اپنی زندگی کا ایک تجربہ بیان کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میں بہت کم اتنا متاثر ہوا ہوں جتنا اس تجربے سے متاثر ہوا کہ ایک گاؤں میں عیسائیوں نے ایک طرف گر جا بنانے کا پروگرام بنایا اور مسلمانوں نے دوسری طرف مسجد بنانے کا پروگرام بنایا۔دونوں نہایت محبت سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے یہاں تک کہ گر جا تیار ہو گیا اور مسجد میں ابھی کام باقی تھا۔چنانچہ مجھے بھی دعوت دی گئی کہ میں جا کر وہاں کا افتتاح کر آؤں لیکن عیسائیوں نے انکار کر دیا کہ جب تک ہمارے بھائیوں کی مسجد تیار نہ ہو جائے اس وقت تک ہم اپنا گر جا شروع کرنے کا بھی کوئی پروگرام نہیں رکھتے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ جب دونوں تیار ہو گئے پھر میں افتتاح