خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 795 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 795

خطبات طاہر جلدے 795 خطبه جمعه ۲۵ /نومبر ۱۹۸۸ء ہوتے ہیں۔ان بیچاروں کو کچھ بھی نہیں پتا کہ یہ کیا کھیل ہورہا ہے۔وہ تماش بین کے طور پر یا سابق میں ان کے دلوں میں جو نفرتیں بٹھائی گئی ہیں ان سے متاثر ہو کر ایسے میدانوں میں چلے آتے ہیں جو مباہلہ کے میدان بتائے جاتے ہیں اور پھر اپنے علماء کے پیچھے لگ کر بغیر جانے ہوئے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں ان کی ہاں ہاں میں ملاتے ، ان کی لعنۃ اللہ کے ساتھ اپنی لعنة الله ڈالتے۔یہ لوگ بیچارے اکثر لا علم ہیں اور ایسے طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں جو ویسے ہی بیچارہ غریب اور مظلوم اور فلاکت زدہ طبقہ ہے۔کم ہیں ان میں جو زیادہ خوشحال اور تعلیم یافتہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہوں۔تو ان لوگوں کے زور اور قوت پر یہ علماء ضرور شہرت حاصل کرتے ہیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں یا بذات خود میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ قابل نفرت نہیں بلکہ قابل رحم ہیں۔اگر چہ علماء خود کبھی بھی ایسے مقابلوں میں باہر نہیں نکلتے جہاں ان کو اپنی جان یا عزت کے خطرے ہوں۔اس لئے جب وہ نکلتے ہیں تو انہی عوام الناس کے زور اور انہی کے بل بوتے پر باہر نکلتے ہیں اور ہمیشہ پھر انہی کو آگے کیا کرتے ہیں۔تو دنیا کی مصیبتوں میں بھی انہی کی چھاتیاں ہوتی ہیں جو گولیاں کھائیں اور طرح طرح کی اذیتیں برداشت کریں اور روحانی مقابلوں میں بھی یہی بیچارے ہیں جن کو دھوکا دے کر پھر مار کھانے کے لئے آگے کر دیا جاتا ہے۔اس کے محرکات کے متعلق اور کیوں ایسا ہوتا ہے میں ایک پہلے خطبہ میں ذکر کر چکا ہوں اسکی تفصیل کی دوبارہ ضرورت نہیں مگر یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کے ہاں نا انصافی نہیں ہے۔خدا کی تقدیر انصاف پر مبنی کام کرتی ہے۔اس لئے یہاں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جو کچھ بھی کہا جائے یہ لوگ مظلوم ہیں اور لاعلم ہیں۔اس لئے ان کے ساتھ رحم کا اور شفقت کا سلوک ہونا چاہئے اور اپنی دعا میں تاکیداً اس التجا کو شامل کرنا چاہئے کہ اے خدا ! اگر چہ ان عوام الناس کے ذریعے تکذیب کی زبان چلی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور جماعت کے خلاف گند بکا گیا ہے مگر ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ ان کے سرداروں کو تو عبرت کا نشان بنا ان پر رحم فرما اور ان کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے بچا اور نجات بخش اور ہدایت دے کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہی لوگ ہیں کہ جب وہ ہدایت پا جاتے ہیں تو پھر دین کی راہ میں قربانیوں میں بھی سب سے پیش پیش رہتے ہیں اور جماعت کو سب دنیا میں کام کرنا ہے اور بڑی کثرت سے ایسے قربانی کرنے والوں کی ضرورت ہے۔قربانی کے چند