خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 789
خطبات طاہر جلدے 789 خطبه جمعه ۱۸ / نومبر ۱۹۸۸ء ہے۔یہ اس کے لئے شعور کا ایک لمحہ ہے لیکن خدا کے تعلق سے نہیں اپنی انانیت کے تعلق سے۔اس لئے ایسا شخص نجات نہیں پاسکتا بعض دفعہ اور مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔تو گناہ کی پہچان ان نسبتوں سے بھی کرنی چاہئے کہ گناہ ہے کیا ؟ کیوں ہے؟ چوری اگر بری ہے تو چور کو یہ سوچنا چاہئے کہ اگر اس کی چوری ہو تو اس کو کیا تکلیف ہوتی ہے اور وہ معاشرے میں یہ تکلیف پہنچارہا ہے۔یعنی یہ ایک بالکل ابتدائی شکل ہے شعور کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ انسان جو اولوالالباب ہو اس کو خدا تعالیٰ ایسے فہم عطا کرتا چلا جاتا ہے اور اس کی نظر کو ایسی بار یکی عطا کرتا چلا جاتا ہے کہ وہ گناہوں کی تہہ تک پہنچ کر ان کا شعور حاصل کرنے لگتا ہے اور جب شعور حاصل کر لے تو پھر یہ جدو جہد ختم ہو جاتی ہے کہ خدا نے منع کیا ہوا ہے اس لئے میں نے انگلی نہیں ڈالنی اس شیطان کے منہ میں۔پھر انسان خود متنفر ہونے لگتا ہے ان چیزوں سے جہاں وہ پہلے لذت پاتا تھا ان میں لذت نہیں رہتی بلکہ گھبراہٹ پیدا ہو جاتی ہے، خوف پیدا ہو جاتا ہے۔اس لئے بچپن سے ماں باپ کو گناہوں کے مضمون کو اپنی اولا د کو اس طرح سمجھانا چاہئے کہ گناہ کا شعور پیدا ہو جائے۔خاص طور پر یہ نسخہ مغربی سوسائٹی میں استعمال کرنے کے لئے بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔یہاں آپ جتنا بھی چاہیں اپنی اولاد کو مغربی معاشرے سے بچانے کی کوشش کرتے چلے جائیں اگر وہ شعور سے عاری ہیں تو ان کی زندگی کے اکثر لمحات ایسے ہیں جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ نہ ماں باپ ہمیں دیکھ رہے ہیں، نہ ہمارا خدا ہمیں دیکھ رہا ہے پھر لذت جس طرف ان کو کھینچے گی وہ لازماً اس طرف جائیں گے کوئی دنیا کی طاقت ان کو روک نہیں سکتی۔اس لئے گناہوں کا شعور اولاد کے دل میں پیدا کرنا اور ان کی تربیت کرنا اس معاملے سے کہ کوئی چیز کیوں منع ہے، اس میں کیا خرابیاں ہیں اور بعض دفعہ چھوٹے چھوٹے تجربوں کے لئے ان کو ان خرابیوں کا احساس دلانا یہ ہے جس کا تعلیم کی حکمت سے تعلق ہے۔پس اسی لئے حضرت اقدس محمد مصطفیﷺ کو جو دنیا کا سب سے بڑا مز کی قرار دیا گیا تو آپ کی تعریف میں یہ بات داخل فرمائی کہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَلٍ مُّبِيْنٍ ( جمعه (۳) اس شان کا مز کی آیا ہے کہ محض تعلیم پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ تعلیم کی حکمتیں بھی بیان فرماتا ہے۔ان کو سمجھاتا ہے ان کے دل کے ساتھ ان کے دماغ کو قائل کرتا ہے یہاں تک کہ وہ گناہ کو گناہ سمجھ کر ، ایک زہر سمجھ کر دیکھنے