خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 776
خطبات طاہر جلدے 776 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء ہیں لیکن جوں جوں آپ مزید تد بر کرتے چلے جائیں اس کی گہرائی میں اور زیادہ معارف کے موتی آپ کو نظر آنے شروع ہوں گے یہاں تک کہ انسان اپنی فکر کے مطابق جتنی بھی جستجو کرتا چلا جائے کلام الہی کی گہرائی کسی ایسے مقام پر نہیں پہنچ سکتی جہاں اس سے آگے رستے بند ہوں ، جس کے بعد کوئی آگے مقام نہ آتا ہو۔یہی مضمون کائنات پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے۔سائنس کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس نے اپنی جستجو میں معارف کے منتہا کو پالیا ہو۔وہی خدا جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے وہی قرآن کریم کا خدا بھی ہے۔اس لئے جس طرح دنیا کے معارف یعنی مادی دنیا کے معارف لامنتہا ہیں اور کوئی دنیا کا بڑے سے بڑا مفکر اور مدبر اور سائنس دان بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس چھوٹی سی حقیقت کے پس پردہ جتنی حقیقتیں بھی تھیں ہم نے سب کو پالیا ہے۔جوں جوں وہ جستجو کا سفر آگے بڑھاتے ہیں نئے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں اور جستجو کے نئے میدان ان پر روشن ہوتے چلے جاتے ہیں۔اس نسبت سے اللہ کے کلام کے بعد سب سے زیادہ پر معارف ، سب سے زیادہ گہرا کلام حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کا کلام ہے۔ایک شخص نے سوال یہ کیا کہ کون سا دن منحوس ہوتا ہے۔اس کے جواب میں آپ نے بدھ کا دن بیان کر کے اس کی وجہ بیان فرمائی۔فرمایا اس دن فرعون اپنے انجام کو پہنچا اور خدا کی قہری تجلی اس پر گری (الدر المخور صفحه : ۶۷۷ زیر آیت انا ارسلنا۔۔سورۃ قمر:۱۹) اور چونکہ وہ خدا کے غضب کے اظہار کا دن تھا اس لئے وہ منحوس دن تھا لیکن اسی دن حضرت موسیٰ نے نجات بھی تو پائی تھی۔وہ دن حضرت موسی کے لئے مبارک دن بھی تو تھا۔غور کرنے والے کا ذہن اس طرف منتقل نہیں ہوا کہ خدا کے عذاب کا دن ان لوگوں کے لئے منحوس ہے جن پر وہ عذاب نازل ہوتا ہے۔ان لوگوں کے لئے نہیں جن کی وجہ سے وہ عذاب نازل ہوتا ہے۔جن کو بچانے کے لئے وہ عذاب نازل کیا جاتا ہے۔پس ایک پہلو سے دن منحوس ہے دوسرے پہلو سے وہی دن برکتوں والا دن بن جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ایک بھی دن ایسا نہیں آیا، ایک دن کا ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جسے آپ منحوس قرار دے سکیں۔پس اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ دن نے نحوست پیدا نہیں کی تھی بلکہ فرعون نے اس دن کو منحوس بنایا تھا۔ہر مکان کو اس کے مکین سے شرف حاصل ہوا کرتا ہے۔اسی طرح زمانے کا بھی ایک ظرف ہے۔اس ظرف میں جو کام کئے جاتے ہیں وہ زمانے کو منحوس بھی بنا دیا کرتے ہیں اور مبارک بھی کر دیا کرتے ہیں۔پس بدھ کا دن ایک پہلو سے منحوس تھا ان لوگوں کے نقطہ نگاہ سے جن پر خدا کا