خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 775 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 775

خطبات طاہر جلدے 775 خطبه جمعه ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء گناہوں کا شعور پیدا کریں جس سے روحانی فراست ملتی ہے۔تنقید جزام کا مرض بن جاتی ہے (خطبه جمعه فرموده ۱۸/ نومبر ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کریمہ تلاوت کیں :۔وَالَّذِيْنَ جَاءُ وَ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلَّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (الحشر: (1) گزشتہ ایک خطبہ میں میں نے یہ ذکر کیا تھا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ نے ایک موقع پر بدھ کے دن کو منحوس قرار دیا۔وہ خطبہ جب مختلف جماعتوں میں پہنچا تو معلوم ہوتا ہے بعض لوگوں کو اس سے غلط نہیں ہوئی اور وہ حدیث کے مفہوم کو صحیح سمجھ نہیں سکے۔جہاں تک دنوں کا تعلق ہے فی الحقیقت کوئی دن بھی منحوس نہیں بلکہ بعض دنوں میں گزرنے والے ماجرے بعض دنوں کو منحوس بنا دیتے ہیں اور بعض دنوں کو مبارک دن بنا دیتے ہیں۔خود حضرت اقدس محمد مصطفی علی نے سوال کرنے والے کے سوال کے جواب میں جو مثال بیان فرمائی اس پر اگر تدبر کیا جاتا تو کبھی یہ غلط فہمی پیدا نہ ہوتی۔حضور اکرم ﷺ کا کلام ایک عام انسان کا کلام نہیں اور کلام کلام کرنے والے کے رتبے اس کے مقام سے پہچانا جاتا ہے۔ایک ہی بات ایک عام آدمی کہتا ہے اس کی بات میں گہرائی اور ہوتی ہے اور وہی بات ایک اور شخص کہتا ہے تو اس کی بات میں اور زیادہ گہرائی پیدا ہو جاتی ہے۔کلام الہی اور کلام انسانی میں یہی فرق ہے۔قرآن کریم کا مطالعہ کریں ایک سطحی معنی آپ کے ذہن پر ابھرتے