خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 774
خطبات طاہر جلدے 774 خطبہ جمعا ارنومبر ۱۹۸۸ء تھی اس نے۔ایک نیا تصور تھاجو پہلے اردو شاعری میں کہیں نہیں نظر آتا کہ وزن پورا کیا ہے تلا تلا کر گویا میں تو تلا ہوں اور میں اس طرح شعر کہہ رہا ہوں۔تو اس نے کہا: ج- ج- جعفری غریب ہے ت ت۔تمغہ اس کو نہ دیجئے اور آخری میں کچھ تھا کہ: د د۔۔۔دوسروں کو جلن نہ ہو تو ٹھیک ہے آپ بھی دوسروں کو جلن کیوں پیدا کرتے ہیں خواہ مخواہ۔جہاں تک بے اختیاری کا معاملہ ہے جنہوں نے جلنا ہے وہ تو حاسد ہے قرآن کریم کے بیان کے مطابق انہوں نے جلنا ہی ہے۔ان کے دل پر رحم بھی کیا کریں کچھ کم مواقع پیدا کیا کریں ان کی جلن کے اور یہ احساس رہے لوگوں کو کہ آپ کو جماعت کی عطا کردہ سہولتوں کا احساس ہے تشکر کا جذبہ بھی ہے اور آپ نہیں چاہتے کہ ضرورت سے زیادہ ان کو استعمال کریں۔اس کے نتیجے میں سوسائٹی میں تقویٰ کا معیار بڑھتا ہے اور آپ کو بجائے اس کے کہ لوگ برائی کی طرف مائل ہوں آپ کو توفیق ملے گی کہ آپ نیکیاں بڑھانے کا موجب بنیں گے۔اس کے علاوہ کچھ اور باتیں ہیں جو میں انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں یا اس کے بعد کے خطبہ میں بیان کروں گا یعنی وہ ذرائع جن ذرائع سے ہم انفرادی طور پر معاشرے کی اصلاح میں ایک غیر معمولی کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ تو انتظامی باتیں ہیں لیکن میرا یہ ایمان ہے کہ جب تک ہمارے اندر سے ایک مفکر، ایک مدبر، ایک مصلح پیدا نہ ہو اس وقت تک حقیقی معنوں میں نہ ہماری اصلاح ہو سکتی ہے نہ ہم معاشرے کی اصلاح کے اہل بن سکتے ہیں۔اس لئے آج ایک یا دو یا تین یا چار مذکروں سے کام نہیں بنے گا۔آج ہر احمدی کو مذکر بنا ہو گا اور وہ نہیں بن سکتا جب تک اس کے ضمیر میں سے ایک مذکر پیدا نہ جو ہر وقت اس کو پہلے اپنی اصلاح کی طرف متوجہ نہ کر رہا ہو اور اس کے بعد انکساری کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کا اہل نہ بنا دے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ اپنی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کو اس طرح ادا کریں کہ خدا کے پیار اور محبت کی نگاہیں ہم پر پڑنے لگیں۔آمین۔