خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 772

خطبات طاہر جلدے 772 خطبه جمعه ۱۱ نومبر ۱۹۸۸ء ہیں ایک حد تک اس کے ہاتھ میں رہتے ہیں لیکن اولاد کے رد عمل پر کوئی باگیں نہیں ہوا کرتیں پھر ۔ پھر یہ شتر بے مہار کی طرح جس طرف سر اٹھائیں نکل جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کی اولا دیں ضائع ہو جاتی ہیں ۔ بعض لوگوں کے متعلق اطلاع ملتی ہے کہ ان کا بیٹا ہے اور فلاں جگہ کام کرتا ہے اس نے یہ، اس قسم کی ظالمانہ تنقید کی گویا کہ اپنی دانشوری کے اڈے بنائے ہوئے ہیں اور نئی نسلوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ان کا باپ ہے۔ اس نے نے عمر بھر خدمت کی باہر بھی اور اندر بھی لیکن میں ۔ میں جانتا ہوں کہ اس میں یہ عادت ہے۔ محلے کی مجلس میں وہ محلے کی انتظامیہ سے شاکی ہوگا، فلاں سے شاکی ہوگا۔ باہر سے محبت اور حسن سلوک سے باتیں کرے گا لیکن گھر میں بیٹھ کر وہ اندرونی دبی ہوئی آگ جو ہے وہ بھڑک اٹھتی ہے۔ اب نام لینے کا تو کوئی مناسب موقع نہیں ہے نہ مناسب ہے کہ کوئی ایسے معاملات میں کسی کو نام لے کر ننگا کرے۔ کبھی ایک دو، تین، چار ایسے بہت سے ہوا کرتے ہیں ہمیشہ رہے ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے قریب سے دیکھا ہے انتظامیہ ربوہ میں قادیان میں ان کو پتا ہے کہ کئی ایسے کچھ دیر رہے، کچھ کو تو مدینہ نے نکال باہر پھینک دیا اور انہوں نے اپنے آپ کو اس ماحول سے اتنا دور سمجھا ایسی اجنبیت دیکھی کہ بالآخر خود نکل کے چلے گئے۔ کچھ ایسے تھے جن کی اولا دیں تباہ ہو گئیں خود ر ہے۔ اسی طرح مختلف قسم کے بداثرات انہوں نے اپنے ہاتھوں سے خود کمائے ۔ تو ان لوگوں کو بھی میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کے خدا کی یہ تقدیر غیر مبدل ہے، اٹل ہے، یہ آپ کے ساتھ ضرور جاری ہو گی۔ دانشور ضرور بنیں لیکن اس رنگ کے دانشور بنیں جس رنگ کے دانشور قرآن بنانا چاہتا ہے۔ اللہ کی محبت کے نتیجہ میں جو دماغ صیقل ہوتا ہے اور فکر کو جلا ملتی ہے اس جلا کے طلب گار ہوں ۔ اس چمک کو خدا سے مانگیں کہ آپ کی تمام صلاحیتیں چمک اٹھیں اور جگمگانے لگیں لیکن الہی محبت میں اور تدبر میں اور فکر میں اور خدا تعالیٰ سے ایسا مزاج مانگیں کہ جس کے نتیجہ میں آپ جہاں بھی جائیں وہاں نیکیاں پیدا کرنے والے ہوں ، سلسلہ کی محبت بڑھانے والے ہوں تسکین قلب نصیب کرنے والے ہوں، جو آپ کے قریب آئیں ان کو سکینت قلب میسر ہو بجائے اس کے کہ ان کی بے چینی اور بے قراری بڑھنی شروع ہو۔ لیکن اس کے باوجود جماعت کے ان ذمہ دار افسروں کی بھی بھاری ذمہ داری ہے جن کی وجہ سے بعض لوگ ٹھو کر کھا جاتے ہیں ان کی بے احتیاطی کی وجہ سے۔ اگر چہ بذات خود میں اس میں کوئی عیب نہیں دیکھتا کہ اگر سلسلہ کے کسی افسر کو کوئی کارملی ہے، کوئی سہولت ملی ہے تو پھر بچوں کو بھی اس میں شامل کر