خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 763 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 763

خطبات طاہر جلدے 763 خطبہ جمعہ ارنومبر ۱۹۸۸ء غیر وجود کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں اور جب جسم کا احساس یہ بیدار ہو جائے تو وہ غیر وجود لازماً جسم کو چھوڑ کر باہر آجاتا ہے۔ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ رہ نہیں سکتا۔چنانچہ اگر چہ ایلو پیتھک میں Worms یعنی پیٹ کے کیڑوں کا علاج اس طرح کیا جاتا ہے کہ وہ یا تو دوائی سے مار دیا جاتا ہے ان کو اور یا اتنا بیمار کر دیتے ہیں ان کو کہ وہ پھر مجبور ہو کر نکلتے ہیں۔لیکن ہومیو پیتھک علاج میں یہ طریق ہے کہ وہ انتڑیاں یا معدہ یا دوسرے ایسے حصے جہاں اگر صحت مند عضلات کام کر رہے ہوں اور اس کے جو Secretions یعنی لعاب وغیرہ نکلتے ہیں نظام انہضام کے وہ درست ہوں تو ہومیو پیتھک فلسفہ کے مطابق وہاں غیر وجود رہنا نہیں چاہئے۔اس لئے جراثیم یا Worms کی موجودگی بتا رہی ہے کہ نظام انہضام میں جس قسم کے لعاب جس تناسب سے پائے جانے چاہئیں وہ بگڑ گیا ہے اور دوسری دفاعی طاقتیں جو ہیں وہ بھی کمزور ہوئی ہوئی ہیں۔پس ایسی دوائیں دی جاتی ہیں جس سے یہ اندرونی نظام متوازن ہو جائے اور جیسا قدرت نے چاہا ہے کہ یہ نظام کام کرے اسی طریق پر کام شروع کر دے۔جب یہ دوا صحیح ہو۔جب یہ دوا کا حکم جسم قبول کر لیتا ہے تو ہم نے دیکھا ہے کہ کیڑے مکوڑے جو بھی پریٹ میں پہلے غذا میں حصہ دار تھے وہ از خود جسم کو چھوڑ کر نکلنے شروع ہو جاتے ہیں۔تو یہ وہ نقطہ ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے آج سے چودہ سو برس پہلے ہمیں سمجھا دیا تھا کہ نظام صالح ہو، معاشرہ صالح ہو تو وہاں بدیاں اجنبیت محسوس کرتی ہیں۔جس طرح بد نظام میں نیک لوگ اجنبیت محسوس کرتے ہیں۔چنانچہ بہت سے احمدی مجھے یورپ اور امریکہ سے خط لکھتے ہیں کہ ہم آ تو گئے ہیں یہاں لیکن بالکل دل نہیں لگ رہا ایسی گندی قوم ہے، ایسی بے حیا قوم ہے، ایسی ایسی بدیاں ہیں کہ ہمیں تو ہر وقت یہ وہم رہتا ہے کہ ہمارے بچے کہیں ٹیلی ویژن نہ کھول کے دیکھ لیں کیا ان پر اثر پڑے گا۔باہر گلیوں میں جاتے ہیں تو وہاں بے حیائی ہے۔اس لئے ہمیں تو اجازت دیں کہ ہم واپس چلے جائیں۔چنانچہ میں اس کو عموماً یہ کہتا ہوں کہ تم صرف اپنی اصلاح کی خاطر پیدا نہیں کئے گئے تم دنیا کی اصلاح کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔یہ بات قابل فہم ضرور ہے جو تم کہہ رہے ہو لیکن تم نے تو لوگوں کی تقدیر بدلنی ہے ، لوگوں کو شفا بخشنی ہے۔اس لئے اول تو یہ ہمت پیدا کرو اور اپنا معیار بلند کرو اور اپنے عزائم بلند کرو اور پختہ کرو کہ ہم نے ہر صورت سے برائی کا مقابلہ کر کے نہ صرف یہ کہ اس کو اپنے اندر نہیں داخل ہونے دینا بلکہ اس کو غیروں سے بھی نکالنا ہے۔یہ اگر تم کر سکتے ہو اور دعا کی مدد کے ساتھ ایسا کرنے میں