خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 758
خطبات طاہر جلدے 758 خطبہ جمعہ ا ا ر نومبر ۱۹۸۸ء طرف غیر معمولی توجہ دیں کیونکہ مباہلہ کی کامیابی اور نا کامی کے سلسلہ میں میں نے جو خدا تعالیٰ سے نشان مانگا ہے اس میں ایک یہ بھی ہے کہ اگر ہمارا دشمن جھوٹا ہے اور جھوٹ پر اصرار کرتا ہے تو ان کے گند ظاہر کر اور دنیا دیکھ لے وہ اسلام کی طرف منسوب ہونے کا کوئی حق نہیں رکھتے اور اگر ہم سچے ہیں تیری نگاہ میں تو ہماری بدیاں دور فرما اور ہماری نیکیوں کو اجا گر کر ہمیں پاک اور صاف بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتا کہ یہ دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ جن کو بد کہتے تھے وہ خوبصورت اور حسین نکلے۔پس اس پہلو سے یہ جو عملی نشان ہے مباہلہ کی کامیابی کا اس میں ہر احمدی کو اپنی کوششیں صرف کرنی ہوں گی یعنی اس نشان کو خدا تعالیٰ سے طلب کرنے کے لئے جانکا ہی کے ساتھ بڑی محنت اور بڑی توجہ اور بڑے خلوص کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی ہوگی اور نیکیوں کو ابھارنے اور بڑھانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے حتی الامکان سعی کرنی ہوگی۔اس پہلو سے میں نے جو سلسلہ تربیتی امور کا شروع کیا تھا اس میں بار بار میں ربوہ کا نام لیتا رہا ہوں ایک مثال کے طور پر لیکن جیسا کہ میں واضح کیا تھا اس ربوہ کی مثال کا تعلق دراصل ساری دنیا کی احمدی جماعتوں سے ہے۔مرکزی حیثیت کے لحاظ سے ربوہ چونکہ ایک نمونہ ہونا چاہئے اس لئے جو باتیں بھی میں ربوہ کے حوالہ سے کرتا ہوں یا کروں گا ان کا دراصل تمام احمدی معاشرے سے تعلق ہے خواہ وہ دنیا کے کسی ملک سے تعلق رکھتا ہو۔جہاں جہاں احمدی بستیاں آباد ہیں جہاں جہاں احمدی گھر موجود ہیں ان سب پر انہی باتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔الا ماشاء اللہ بعض ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جو بعض شہروں کے ساتھ خصوصیت رکھتی ہیں۔ان کو چھوڑ کر جہاں تک عمومی تربیت کا تعلق ہے میرا خطاب عام ہے اور کسی ایک شہر یا ایک بستی سے میں مخاطب نہیں ہوں۔جہاں تک میرے گزشتہ خطبہ میں اس نصیحت کا تعلق ہے کہ تربیت نرمی اور شفقت اور محبت اور پیار اور سمجھانے کے ذریعے کی جاتی ہے سختی سے نہیں کی جاتی۔یہ بات بالکل درست ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں لیکن اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ پیشہ ور مجرموں سے نرمی کرنی چاہئے اور ان کے جرم کو نظر انداز کر دینا چاہئے اور انہیں معاشرے کے ساتھ ظلم کرنے سے باز رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔بعض بدیوں کے اڈے بن جاتے ہیں یعنی لفظ پیشہ ور اس طرح تو ان پر اطلاق نہیں پاتا لیکن پیشہ وری کا لفظ ایک محاورہ بن چکا ہے یعنی عادی مجرموں کے لئے بھی آپ پیشہ ور مجرم کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔پس