خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 756
خطبات طاہر جلدے 756 خطبه جمعه ۴ /نومبر ۱۹۸۸ء ہو جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی غیر معمولی جلوے دکھاتی ہے۔کل روزے کا دن تھا اور مجھے بڑی خوشی ہے کہ جماعت انگلستان نے کثرت کے ساتھ مردوزن نے روزے رکھے، بچوں نے بھی روزے رکھے اور آج دعا کا دن بھی ہے اور اس کے ساتھ کوششوں کا دن بھی جو جمعہ تک نہیں بلکہ ہفتہ اتوار تک بھی جاری رہیں گی۔اس عرصے میں جس طرح میں ہدایتیں دے چکا ہوں ان کی روشنی میں آپ اپنے کام کو منظم کریں اور ساری دنیا میں ان کی مظلومیت کے احساس بیدار کرنے کے لئے مستعد ہو جائیں اور جو جو پہلے آپ کام کر کے آہستہ آہستہ تھک گئے یا سو گئے دوبارہ از سرنوان کو اٹھائیں اور نئے جذبے نئے جوش کے ساتھ ان سارے کاموں کو ،سب ترکیبوں کو دہرائیں اور دوبارہ ان پر عمل شروع کریں جن پر آپ شروع سے اب تک مختلف وقتوں میں کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم ان کے لئے جو قربانی کی ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں وہ ادا کرنے والے ہوں اور اس پہلو سے خدا کی نظر میں بے حس اور مجرم نہ ٹھہریں کیونکہ جو آسانی کی زندگی بسر کرنے والے لوگ ہیں اگر وہ اپنے مشکل میں بسنے والے ساتھیوں کی فکر نہیں کرتے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ خدا کے حضور مجرم ٹھہرتے ہیں۔اس لئے بہت ہی گہری ذمہ داری ہے اسے ہمیں بڑے خلوص کے ساتھ محبت کے ساتھ ادا کرنا چاہئے ، خدا سے مانگتے ہوئے ادا کرنا چاہئے اور ان دعاؤں پر آج کے بعد خاص طور پر زور دیں کہ اگلی صدی کا دن نہ چڑھے کہ یہ لوگ ابھی قید کی حالت میں ہوں ( آمین ) اور اس سے پہلے یہ لوگ آزاد ہوں اور ہمارے ساتھ نئی صدی کے جشن میں ہر طرح سے شامل ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی دعاؤں اور قربانیوں کے ذریعے خدا کی رحمت کو اس طرح موہ لیں کہ وہ ہر طرف ہر احمدی مظلوم پر برسنے لگے اور ہم اگلی صدی میں واقعہ ایک جشن کے موڈ کے ساتھ داخل ہوں یہ نہ ہو کہ دل کے کچھ حصے دکھ رہے ہوں اور ہم خوشیاں منا رہے ہوں۔