خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 755
خطبات طاہر جلدے 755 خطبه جمعه ۴ /نومبر ۱۹۸۸ء چلے جائیں گے۔اس طرح کا اگر نظام باہر کے ملکوں میں فائدہ مند ہوسکتا ہے تو اس سے بھی استفادہ کرنا چاہئے۔جہاں تک پاکستان سے باہر چندہ دہندگان کی تعداد کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔حالانکہ تعداد کے لحاظ سے ہندوستان اب بہت سے دوسرے ممالک سے بہت پیچھے رہ گیا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے جو پرانی قربانی کی جاگ تھی ، پرانی قربانی کے مزے کی عادت تھی وہ ابھی تک چل رہی ہے اسی طرح اللہ کے فضل سے اور پھر اس کے بعد نمبر دو انڈونیشیا کی باری ہے۔افریقین ممالک کے میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ ان کا اس وقت جو حال ہے اس پر ان کو تحریک کرنے کے لئے بھی پوری طرح شرح صدر نہیں ہوتا کہ اس پر زیادہ محنت کریں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے تو وہ قربانی میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے کیونکہ جو میں نے جائزے لئے ہیں وہاں کوئی افریقن جماعت ایسی نہیں جو اخلاص میں کسی دوسری جماعت سے پیچھے ہو۔بڑی قربانی کا جذبہ رکھتے ہیں لیکن اس وقت مجبوریاں در پیش ہیں۔بہر حال پھر انڈونیشیا کے بعد جرمنی ہے پھر برطانیہ پھر امریکہ پھر کینیڈا۔اس طرح تدریجاً تعداد کم ہوتی چلی جارہی ہے اور جو تعداد میرے سامنے ہے وہ اس وقت پڑھنے کا وقت نہیں۔مگر تعداد کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہے کہ جو ممالک پیش پیش ہیں ان میں بھی ابھی بہت گنجائش موجود ہے۔یعنی تیسرا حصہ، چوتھا حصہ تعداد شامل ہے بعض جگہ۔بعض جگہ ایک فیصد شامل ہے۔بعض جگہ اس سے بھی کم شامل ہے۔تو گنجائش بہت ہے اللہ تعالیٰ کرے کہ ہمیں اس کی توفیق ملے۔کسی چندے کا بھی آپ عادی بنا دیں پھر دیکھیں گے خدا کے فضل سے وہ شخص کس طرح تیزی سے مالی قربانی میں بھی اور وقت کی قربانی میں بھی پہلے کی نسبت زیادہ ترقی کرتا ہے۔اب آخری بات تحریک جدید کے سال سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ اسیران راہ مولا کے لئے دعا کی درخواست کرنی ہے۔یہ جمعہ میں نے خصوصیت سے اسیران راہ مولا کی یادوں میں محو ہو کر ان کے لئے دعا کرنے کے دن کے طور پر تجویز کیا تھا۔ویسے تو کوئی دن ایسا نہیں گزرنا چاہئے کہ اپنے مظلوم بھائیوں کے لئے دل سے بار بار، ایک دفعہ نہیں بار بار کثرت سے دعا نہ اٹھتی ہو لیکن جب ایک دن منایا جائے تو پھر ساری دنیا کی اجتماعی جماعتیں اس دن خصوصیت کے ساتھ ایک مقصود کے اوپر مرکوز