خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 744 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 744

خطبات طاہر جلدے 744 خطبه جمعه ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء کیا جائے اور ان کی اولادوں کے ساتھ ان کا تعلق قائم کیا جائے۔چنانچہ ایک دن جب میں نے سرسری نظر سے اس کا جائزہ لینا شروع کیا تو حیرت ہوئی کہ اگر وہ آنکھیں کھول کر محض اپنی یادداشت سے ہی کام لیتے یعنی کلرکوں کے سپر د کام نہ کرتے اور یہ نہ کہتے کہ بس اجماعت کو چھٹی لکھ دو جس جماعت میں کوئی ہے اور پھر دیکھو کیا جواب آتا ہے بلکہ ہوش مندی سے اس فہرست کا مطالعہ کر لیتے تو وہ نسل جو قادیان کی پروردہ ہے اس نسل کے ذہن میں بہت سی یادیں محفوظ ہیں اور با آسانی وہ یادیں دوبارہ تازہ ہو سکتی ہیں۔چنانچہ جب میں نے دیکھا، میں نے جب نظر ڈالی مثلاً کینیا دیکھا، یوگنڈا دیکھا، افریقہ کے دوسرے ممالک دیکھے تو بہت سے مجھے یاد تھے ان کی اولادیں کیفیا چھوڑ کر امریکہ چلی گئی ہیں، کوئی کینیڈا جا کر آباد ہو گیا ہے اسی طرح کچھ لوگ پاکستان چلے گئے اور اچھے بھلے معروف لوگ ہیں۔اسی طرح قادیان میں بہت سے ایسے تھے جو وہاں سے ہجرت کر کے افریقہ چلے گئے تھے یا افریقہ چھوڑ کر کسی اور ملک میں چلے گئے۔تو محض ایک سرسری جائزہ بھی اگر لے لیا جاتا اور افسران متعلقہ جن کو قادیان میں پرورش پانے کی سعادت ملی ہوئی ہے وہ اکٹھے بیٹھ کر یا الگ الگ غور کرتے تو بہت بھاری تناسب ایسا تھا ان فہرستوں میں سے، ناموں میں سے بھاری تعداد میں ایسے افراد تھے جن کو از سر نو دریافت کر لینا کوئی مشکل کام نہیں تھا اور ان کی اولادوں کے متعلق بھی معلوم کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ان اولادوں پر جب ان کے نام پر میں نے سرسری نظر ڈالی تو پتا چلا کہ خدا کے فضل سے بہت اچھے حال میں ہیں اکثر بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ جن کا مجھے علم تھا وہ سارے ہی خدا کے فضل سے غیر معمولی دنیاوی لحاظ سے یا غیر معمولی طور پر خوشحال تھے یعنی لکھ پتی نہ سہی مگر خوشحال لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور ہوسکتا ہے بلکہ مجھے تو یقین ہے کہ جماعت کے اولین قربانی کرنے والوں کی قربانی کا صلہ ہے جو اللہ تعالیٰ اس طرح بھی ان کو دے رہا ہے کہ ان کی اولادوں کے اموال میں برکت ڈال رہا ہے۔اس لحاظ سے تو ان پر دوہرا فرض عائد ہوتا ہے اور فرض کا سوال نہیں ان کو یہ پتا لگ جائے کہ کن بزرگوں کی یادوں کو ہم نے زندہ کرنا ہے کن کی نیکیوں کو ہم نے زندہ کرنا ہے۔اب اس رنگ میں ہم دفتر اول میں شمولیت کا بھی ایک رستہ پا سکتے ہیں۔تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ فوری طور پر سعادت سمجھتے ہوئے اس تحریک میں شامل نہ ہوں۔چنانچہ چوہدری حمید اللہ صاحب جو وکیل اعلیٰ ہیں وہ چونکہ یہاں موجود تھے ان کو میں نے خود