خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 743
خطبات طاہر جلدے 743 خطبه جمعه ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء ہوئے آخر وقت تک کامل وفا کے ساتھ اس عہد کو نبھاتے رہے۔ان دنوں جماعت کے اقتصادی حالات بہت ہی نا گفتہ بہ تھے اور قادیان کی تو بھاری اکثریت غرباء اور درویشوں پر مشتمل تھی۔ایسے حالات تھے کہ جماعت کو بعض دفعہ مہینوں انجمن کے ملازموں کو تنخواہ دینے کے لئے پیسے نہیں ملتے تھے، بعض دفعہ حضرت مصلح موعود قرض اٹھا کر ان کو تنخواہیں دیا کرتے تھے تنخواہیں تو کہنا درست نہیں جو بھی معمولی گزارے مقرر تھے اور یا بعض دفعہ کئی کئی مہینے یہ اعلان کیا جاتا تھا کہ آپ حسب توفیق اپنے طور پر قرضے اٹھا لیں اور جب جماعت کو توفیق ملے گی آپ کو آپ کے گزارے دے دیئے جائیں گے۔ان حالات میں جب اس قربانی کو دیکھتے ہیں تو اس کی عظمت اور بھی زیادہ نمایاں ہو کر دکھائی دینے لگتی ہے۔پھر اس دفتر کی ایک عظمت ایسی ہے جو پھر دوبارہ کبھی کسی دفتر کونصیب نہیں ہو سکتی یعنی اس میں صحابہ کی بہت بڑی تعداد شامل تھی اور ان صحابہ میں سے اب صرف گنتی کے رہ گئے ہیں جو دفتر اول میں شامل تھے۔پس اس دفتر نے تو لازماً رفتہ رفتہ تاریخ کی یادیں بن جانا تھا اور گزرے ہوئے وقتوں کی کہانی ہو جانا تھا۔اس لئے میں نے یہ تحریک کی تھی کہ جہاں تک بھی جماعت کو تو فیق ہو کھود کر ، کرید کرید کر ان لوگوں کے متعلق معلوم کریں کہ ان کی اولادیں کہاں ہیں۔کون ان کے عزیز ہیں جو براہ راست اولاد نہ بھی ہوں تو اب ان رفتگان کے کئے ہوئے وعدوں کو دوبارہ از سر نو پیش کریں اور یہ عہد کریں کہ وہ انشاء اللہ اور بعد میں ان کی نسلیں بھی ان کے وعدوں میں اضافہ کرتی چلی جائیں گی اور اضافہ کے ساتھ جماعت کو پیش کرتی چلی جائیں گی۔اس لحاظ سے یہ دفتر ہمیشہ ہمیش کے لئے زندہ ہو سکتا ہے۔چنانچہ اس اعلان کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی حد تک جماعت کو توفیق ملی اور ہر سال اس دفتر میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔لیکن جو خاص بات میں آپ کے سامنے آج رکھنی چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ سارے کھاتے اگر زندہ نہیں ہوئے تو اس میں جماعت کا کوئی قصور نہیں ہے۔تحریک جدید جس کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا انہوں نے پوری ہوش مندی سے یہ کام نہیں کیا۔بار بار دفتر مال کو میں نے نصیحت کی سمجھایا کہ اس طریق پر کام کریں لیکن پھر یہی جواب آتا تھا کہ جی پتا نہیں لگ رہا کہ کون کہاں ہے۔چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ آپ کے جتنے نام تلاش ہو سکے ہیں ان پرنشان ڈالیں اور ساری کتاب مجھے بھجوائیں اور میں خود اپنے ہاتھ میں لیتا ہوں کہ کس طرح ان بزرگوں کو تلاش