خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 742
خطبات طاہر جلدے 742 خطبه جمعه ۴ رنومبر ۱۹۸۸ء میں مزید کوئی چندہ دہندہ شامل نہیں ہوگا بلکہ دفتر دوم کی فہرست میں وہ نام لکھے جائیں گے جواس پاکیزہ مبارک تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔تو دفتر دوم چونکہ دفتر اول کے دس سال کے بعد قائم کیا گیا اس کو اب پینتالیس (۴۵) واں سال ہے۔یہ بات میں اس لئے کھول کر سمجھا رہا ہوں کہ اس کے بعد میں جماعت کو ایک امر کی یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں۔بہر حال اس پہلے دس سال میں جتنے بھی سعید بخت احمدیوں کو توفیق ملی کہ وہ اس تاریخی اور عظیم تحریک میں شامل ہو سکیں ان کے بعد دوبارہ اس میں نئے نام کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور مسلسل وہی فہرست ہے جو آج تک چلی آ رہی ہے اور وہی لوگ ہیں کہ جن میں سے جو زندہ ہیں وہ اب بھی چندہ دے رہے ہیں۔تو میں نے گزشتہ چند سال پہلے یہ تحریک کی تھی کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی قربانیاں حیرت انگیز اور نہایت عظیم الشان ہیں باوجود اس کے کہ ان دنوں روپوں کے لحاظ سے ان کے چندے کی کل مقدار آج کل کے چندے کی مقدار کے مقابل پر کچھ بھی نہیں تھی لیکن جہاں تک خلوص کا تعلق ہے، جہاں تک تقویٰ کے ساتھ خدا کے حضور کچھ پیش کرنے کا تعلق ہے، جہاں تک آمد کے تناسب سے قربانی کا تعلق ہے ان لوگوں نے عظیم الشان قربانیاں دیں اور اس عظیم الشان قربانی میں بالا رادہ بھی شامل ہوئے اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ غیر ارادی طور پر اس عظیم الشان قربانی میں شامل ہوئے اور پھر اس کو نبھاتے چلے گئے۔غیر ارادی طور پر اس طرح کہ جب حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک فرمائی ۱۹۳۴ء میں تو اس وقت بہت سے سنے والوں نے یہ سمجھا کہ یہ صرف ایک سال کے لئے تحریک ہے۔چنانچہ انہوں نے اس خیال سے اپنی سالانہ طاقت سے بہت بڑھ کر اس میں حصہ لے لیا اور خیال یہ کیا کہ کچھ قرض اٹھا لیں گے ایسی تحریکات روز روز تو نہیں ہوا کرتیں۔چنانچہ انہوں نے اس اندازے کے مطابق زیادہ دیتے ہیں اور باقی قرضے بعد میں پورے کرتے رہیں گے اپنی سالانہ تو فیق کے مقابل پر بہت زیادہ قربانی میں حصہ لے لیا۔کچھ مہینوں کے بعد جب حضرت مصلح موعودؓ سے وضاحت کروائی گئی تو ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے پیچھے قدم اٹھایا ہو۔بلا استثناء ہر ایک نے یہ عہد کیا کہ جو خدا سے میں ایک دفعہ وعدہ کر چکا ہوں اس سے پیچھے قدم نہیں اٹھانا ہمارا کامل تو کل اپنے رب پر ہے اور وہی ہمیں وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا فرما تا رہے گا۔چنانچہ اس لحاظ سے ان کے تو کل کو خدا نے سچا کر دکھایا اور نہ صرف یہ کہ وہ پیچھے نہیں ہے بلکہ تا دم واپسیں جو ان میں سے فوت