خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 739
خطبات طاہر جلدے 739 خطبه جمعه ۲۸ را کتوبر ۱۹۸۸ء گا۔اس لئے بہت ہی اہمیت رکھتا ہے یہ مقام خاص طور پر بار بار میں نے اس کا ذکر اس لئے کیا مگر یہ مراد نہیں ہے کہ انگلستان کی جماعت ان برائیوں سے محفوظ ہے یا جرمنی کی جماعت ان برائیوں سے محفوظ ہے یا امریکہ کی جماعت ان برائیوں سے محفوظ ہے۔وہاں یہ برائیاں جتنی ربوہ میں پائی جاتی ہیں اس سے زیادہ پائی جاتی ہیں لیکن اگر ربوہ والی برائیاں صرف یہاں پائی جائیں تو آپ کو برائی دکھائی نہیں دے گی کیونکہ آپ دوسرے معاشرے میں رہ رہے ہیں۔یہاں آپ سمجھیں گے بڑے شریف نوجوان ہیں وہ صرف گانے سنے باہر نہیں نکلتا، ڈانس کرنے نہیں جاتا ،شراب نہیں پیتا وہ اور کئی قسم کے بد کام نہیں کر رہا، ڈرگ کا عادی نہیں ہے۔تو آپ تو اس کو ایک بڑا متقی اور بزرگ سمجھ رہے ہوں گے جس بیچارے کو وہاں نہایت ہی ذلیل اور رسوا اور گندہ انسان سمجھا جاتا ہے۔تو معاشرے کے فرق کے ساتھ برائیوں کے تصور بھی بدل جاتے ہیں آپ کو اور قسم کے خطرات ہیں ، امریکہ کو اور قسم کے خطرات ہیں۔ہر ملک میں یہ خطرات بہر حال ہیں۔پس ساری دنیا کی جماعتوں کی انتظامیہ کو ان خطرات کا تجزیہ کر کے حسب حال مناسب کاروائیوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ان سارے امور کے ساتھ دعا کو ہمیشہ یاد رکھیں میں پھر بھی یاد کراؤں گا خصوصیت سے اس کا ذکر آخر یہ کروں گا لیکن یہ یاد رکھیں کہ ہماری کوئی کوشش بھی برکت حاصل نہیں کر سکتی جب تک دعا کے ذریعے ہم ان کوششوں کو سیراب نہ کریں۔ہماری کوششیں شجرہ طیبہ ہیں اور ہر درخت پانی کا محتاج ہوا کرتا ہے۔شجرہ طیبہ خصوصیت کے ساتھ آسمانی پانی کا محتاج ہوتا ہے جو دعا کے ذریعے میسر آیا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اس عظیم جدوجہد کا ہم حق ادا کر سکیں۔ابھی ہمیں بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے میں آئندہ خطبہ میں تو نہیں اگلے آئندہ خطبہ میں تو تحریک جدید کا ذکر ہو گا خصوصیت کے ساتھ اس کے بعد انشاء اللہ حسب توفیق اس مضمون کو آگے بڑھا کر آپ کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کروں گا کہ اگلی صدی جس میں ہم نے داخل ہونا ہے اس میں دن بہت تھوڑے رہ گئے ہیں اور کام ہم نے بہت زیادہ کرنے ہیں۔بہت سی ایسی برائیاں ہیں جو ابھی تک ہمارے ساتھ چھٹی ہوئی ہیں، ان کو جسم سے اتار پھینکے بغیر ، اپنے آپ کو ہلکا کئے بغیر ، صاف ستھرا اور پاکیزہ بنائے بغیر اگر ہم اگلی صدی میں داخل ہوں گے تو پھر اگلی صدی کے پر لے کنارے پر جو برائیاں ظاہر ہوں گی آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کا کیا حال ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ اس عظیم کام کا حق ادا کر سکیں۔