خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 724 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 724

خطبات طاہر جلدے 724 خطبه جمعه ۲۸/اکتوبر ۱۹۸۸ء Drug Addiction کے پھیلانے کے احتمالات بہت زیادہ پیدا ہو جاتے ہیں۔اگر تو طبعی طور پر یہ عوامل آگے بڑھ رہے ہوں تو اس میں وقت لگتا ہے اور تیزی کے ساتھ معاشرہ خراب نہیں ہوتالیکن اگر اس صورتحال پر بعض فتنہ پرداز گہری نظر رکھتے ہوئے ان برائیوں کو بیرونی مدد دے کر آگے بڑھانے کی کوشش کریں تو پھر خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ معاشرہ بڑی تیزی سے ان بدیوں کا شکار ہو جائے۔چنانچہ چند سال پہلے بھی میرے علم میں یہ بات آئی تھی کہ یہ منصوبہ ایک جگہ بنایا گیا کہ ربوہ کے نوجوانوں کو نشہ آور دواؤں کا عادی بنا لیا جائے اور اس کے لئے ان کو شروع میں مفت ایسی چیزیں مہیا کی جائیں پھر جب وہ ان کے عادی بن جائیں پھر ان سے رفتہ رفتہ یہ حسن سلوک جس کو وہ سمجھتے ہیں اس کا ہاتھ کھینچا جائے اور ان کو مجبور کیا جائے کہ وہ پیسے مہیا کریں ان چیزوں کے لئے۔پھر اس کے نتیجہ میں چوریاں شروع ہوں گی ، ڈا کے شروع ہوں گے۔ایسے گروہ بن جائیں گے جو ہر قیمت پر روپیہ حاصل کر کے اپنی اس عادت کو تسکین دینے کی کوشش کریں گے۔چنانچہ ان اطلاعوں کی توثیق بعض دفعہ اس طرح بھی ہوئی کہ بعض خواتین نے مجھے خط لکھا کہ ہمارا بچہ پہلے تو بے باک ہوا تھا اب حالت یہ ہے کہ گھر کے پیسے چوری نہیں بلکہ زبر دستی چھین لے کے جاتا ہے اور بعض دفعہ چاقو دکھا کر بھی جب مجھے اکیلا پاتا ہے تو ڈراتا ہے کہ میں تم پر حملہ کر دوں گا یا تم سے سختی کروں گا جس قسم کی بھی اس سے ممکن ہے مگر ہر طرح تم نے مجھے پیسے ضرور مہیا کرنے ہیں۔ایسی مائیں بھی ہیں جو ایسی اطلاع دے دیتی ہیں لیکن بہت سی ایسی مائیں بھی ہوں گی جو اطلاع نہیں دیتیں۔جو مھتی ہیں کہ ہماری عزت پر حرف آئے گا یا اپنے بچوں کی محبت میں اندھی ہو چکی ہوتی ہیں اور ان پر وہ پر دے ڈالتی ہیں۔بعض مائیں ہیں جو بچوں کے باپ کو بتادیتی ہیں ، بعض ان سے بھی مخفی رکھتی ہیں یہاں تک کہ بیماری حد سے بڑھ جاتی ہے۔بہر حال جب ان باتوں کی اطلاعیں ملنی شروع ہوئیں تو جس حد تک بھی ممکن تھا ان کے خلاف انسدادی تدابیر اختیار کی گئیں لیکن اس وقت جو انسدادی تدابیر میرے ذہن میں ہیں ان کا تعلق پکڑ دھکڑ سے نہیں ہے۔میرے ذہن میں جو امور عامہ کا تصور ہے یا امور عامہ سے مراد صرف نظارت امور عامہ نہیں ہر جماعت میں امور عامہ کا شعبہ قائم ہے۔وہ سیکرٹری جن کا ان کاموں سے تعلق ہے وہ سب اس وقت میرے مخاطب ہیں۔آپ کا کام یہ نہیں ہے کہ آپ