خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 722 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 722

خطبات طاہر جلدے 722 خطبه جمعه ۲۸ را کتوبر ۱۹۸۸ء اور ان کو اس معاملے میں بہت سی فوقیت حاصل ہے۔ نیکی پیدا کرنا Uphill Task کہلاتا ہے۔ یعنی جس طرح اونچی سطح کی طرف چڑھنا اور کوشش کرنا بہت محنت چاہتا ہے اور ہمت چاہتا ہے اور صبر چاہتا ہے۔ اس کے برعکس نیچے کی طرف بہنا ایک طبعی امر ہے اور اس کے لئے کسی غیر معمولی جدوجہد کی ضرورت نہیں لیکن اگر منصوبہ بنا کر نیچے کی طرف رخ کرنے کی کوشش کی جائے تو ظاہر بات ہے کہ تمام عوامل اس کوشش کو کامیاب بنانے میں مدد گار ہوں گے۔ پس اس پہلو سے ہمارا کام بہت مشکل ہو جاتا ہے لیکن بہر حال ہم نے یہ کرنا ہے اور ہر قیمت پر اپنے نو جوانوں کو ان بدیوں سے بچانے کی کوشش کرنی ہے۔ جو بدیاں بالخصوص اس وقت مجھے راہ پاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ان میں آوارگی سب سے پہلی چیز ہے۔ آوارگی سے مراد ہے اپنے ذہن کو بعض عیاشیوں کے لئے آمادہ کر لینا اور اجازت دے دینا اور پھر ان عیاشیوں کی تلاش میں سرگرداں پھرنا۔ ہمارے ملک میں یہ بیماری خصوصیت کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ اس لئے کہ وہاں بدار ادے کے باوجود عیاشی کے ذریعے اتنی آسانی سے میسر نہیں ہیں۔ مغربی ممالک میں بدار ادے کے ساتھ ہی عیاشی کے ذرائع بھی نسبتاً آسانی سے میسر آجاتے ہیں۔ اس لئے جس چیز کو ہم اپنی زبان میں آوارگی سمجھتے ہیں وہ وہاں اور معنی رکھتی ہے اور یہاں اور معنی رکھتی ہے۔ وہاں آوارگی اس طرح دکھائی دے گی کہ نوجوانوں کی ٹولیاں آپ کو بے مقصد، بے وجہ بازاروں میں اور پبلک جگہوں میں گھومتی پھرتی دکھائی دیں گے اور باوجود اس کے کہ ان کا کوئی خاص ارادہ کہیں ڈاکہ ڈالنے کا نہیں ہوتا کسی لڑکی کو چھیڑنے کا نہیں ہوتا لیکن ایک اندرونی بے چینی ان کے اندر دکھائی دیتی ہے، وہ چاہتے ہیں کہ کچھ ان کو ملے، وہ چاہتے ہیں کسی طرح وہ کوئی تسکین حاصل کریں۔ اس لئے وہ آپس میں خوش گپیاں کرتے ہوئے ایک دوسرے کو بعض ایسے دلچسپ فرضی یا حقیقی واقعات سناتے ہوئے جن سے طبیعتیں خاص طرف میلان اختیار کر لیں ۔ بعض قسم کی خواہشیں بیدار ہوں اور زیادہ طبیعت میں جوش مارنے لگیں ایسے قصے کرتے ہوئے وہ پھرتے رہتے ہیں اور جب یہ گروہ زیادہ قوت پکڑ جاتے ہیں پھر دوسرے واقعات بھی شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر آوازیں کسنا گزرتی ہوئی بچیوں کے اوپر یا اس سے بڑھ کر بعض اور غلط منصوبے بنا کر ان پر عمل درآمد بھی شروع ہو جاتا ہے۔