خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 699
خطبات طاہر جلدے 699 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء پہلی بات تو یہ ہے کہ ان باتوں کی خبر رکھنا ضروری ہے۔جسم کے جن حصوں میں بیماری داخل ہو جائے اور خبر نہ ہو وہاں جسم کا کوئی ردعمل نہیں ہوتا۔اس لئے جہاں جہاں نظام جماعت خبر گیری سے غافل ہو جاتا ہے وہاں یہ بیماریاں پنپنے لگتی ہیں۔چنانچہ افسوس کی بات یہ ہے کہ مجھے اس نظام کے ذریعے پتا چلتا ہے جو خدا تعالیٰ نے خلافت کی حفاظت کے لئے از خود جاری فرما دیا ہے۔ہر احمدی جہاں کوئی غلط بات دیکھتا ہے مجھے خط لکھ دیتا ہے۔اس لئے میں باخبر تو رہتا ہوں لیکن جو نظام کا حصہ اس بات پر مامور تھا کہ ان باتوں کی خبر رکھے اور مجھے مطلع رکھے وہ غافل ہے۔بسا اوقات یہ اطلاعیں انفرادی خطوط کے ذریعے مجھے ملتی ہیں جماعتی اطلاعوں میں یہ شامل نہیں ہوتیں۔میں نے اس سے پہلے بھی جماعتوں کو نصیحت کی تھی کہ سچائی میں عزت ہے۔اگر اس خیال سے آپ یہ خبریں نہیں دیتے کہ آپ کی بدنامی نہ ہو یا مجھ پر برا اثر نہ پڑے کہ جماعت لاہور یا جماعت ربوہ یا جماعت کراچی میں یہ یہ کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔یہ آپ اپنی جان پر ظلم کر رہے ہیں اور جماعت پر ظلم کر رہے ہیں۔ساری زندگی کا راز سچائی ہے۔آپ باخبر رہیں اور مجھے مطلع رکھیں تکلیف آپ کو پہنچتی ہے اور مجھے بھی پہنچتی ہے لیکن یہ تکلیف ہماری بقا کے لئے ضروری ہے، اس بات کو نہ آپ بھولیں۔اگر آپ مجھے اس لئے نہیں بتاتے کہ مجھے تکلیف نہ ہو تو پہلے نیت کے نسبتاً یہ بہتر ہے لیکن درست یہ بھی نہیں۔خدا نے جو تکلیف میرا مقدر بنائی ہے جو میری ذمہ داری ہے اس سے آپ مجھے کس طرح بچا سکتے ہیں۔اگر آپ نہیں بتائیں گے تو دوسرے بتائیں گے اور جیسا کہ میں نے ابھی آپ کے سامنے نقشہ کھینچا ہے ایک پھوڑے بنے کا وہاں خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا تھا کہ بڑی تکلیف ہوتی ہے۔تکلیف ہی حفاظت کا انتظام کرتی ہے۔اگر تکلیف نہ ہو بیماری سے تو وہ ذرات جن کا کام ہے اس بیماری کا مقابلہ کرنا وہ حرکت میں ہی نہیں آتے۔بعض دفعہ تکلیف کے نتیجے ہی میں اطلاع ملتی ہے ان کو اور بعض دفعہ جب وہ حرکت میں آتے ہیں تو اس کے نتیجے میں کچھ تکلیف قدرتا پہنچتی ہے اور یہ تکلیف لازمہ ہے ایک صحت کا۔اسی لئے بعض لوگ کہتے ہیں جی! خدا تعالیٰ نے یہ اتنی بیماریاں بنا دیں، انسان کو یہ مصیبتیں ڈالیں ان بیوقوفوں کو یہ نہیں پتا کہ خد اتعالیٰ نے آپ کی حفاظت کے لئے یہ تکلیفیں رکھی ہیں۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الم نشرح: (۷) کا جو عظیم الشان مضمون بیان ہوا ہے اس کا یہاں بھی اطلاق ہوتا ہے۔ہر آسانی سے پہلے کسی تکلیف میں سے گزرنا ضروری ہے۔یہ ایسا قانون قدرت ہے جس کو کوئی