خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 696 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 696

خطبات طاہر جلدے 696 خطبه جمعه ۴ ۱ را کتوبر ۱۹۸۸ء کھیل جاؤں تو قران کریم کی کسی حرمت کو توڑے بغیر وہ اپنا نقصان نہیں کر سکتا۔یہ ہے نفس کے دھو کے کا مضمون۔قرآن کریم نے جو حرمتیں قائم فرمائی ہیں وہ آپ کی حفاظت کے لئے قائم فرمائی ہیں اور اگر آپ ان حرمتوں کو نہ توڑیں اور ان کے خلاف اپنے نفس کو بغاوت نہ کرنے دیں تو آپ مقام محفوظ میں ہیں پھر کوئی دشمن آپ پر حملہ نہیں کر سکتا۔یہ وہ بیماریاں ہیں اموال کی جو اکٹھی چلنے والی ہیں۔چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ جہاں بددیانتیاں عام ہوں وہاں قمار بازی کا رجحان بھی بڑھ جاتا ہے اور جو وں کے اڈے بننے شروع ہو جاتے ہیں۔اس لئے یہ ساری بیماریاں جو اموال سے تعلق رکھتی ہیں یہ ہاتھ میں ہاتھ دے کر اکٹھی چلتی ہیں۔چنانچہ جہاں تک میرا جائزہ ہے قادیان میں بھی، ربوہ میں بھی اور پاکستان کے اور شہروں میں بھی وقتا فوقتا قمار بازی کے رجحان پیدا ہوئے ہیں اور جماعت نے ان کے خلاف جدوجہد کی ہے اور جب ہم نظر بند کر لیتے ہیں یا انتظام ان باتوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتا ہے تو یہ پھر پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ربوہ میں میرے علم میں ہیں وہ لوگ جو ایسے رجحان پیدا کرتے ہیں اور جن کے گھر ایسے اڈے بنتے ہیں۔جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ جی ہم تو وقت گزارنے کے لئے تاش کھیل رہے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔در اصل بات یہ ہے کہ تاش نہیں کھیل رہے ہوتے تاش کے ساتھ پیسے لگے ہوئے ہوتے ہیں اور دور دور سے کہیں سرگودھا سے، کسی چک سے، کسی اور مقام سے لوگ ان کے خاص جوان اڈوں پر آنے کے عادی ہیں وہاں پہنچتے ہیں اور جب وہ نظام ان سے پوچھتا ہے تو کہتے ہیں یہ ہم نے ذرا مشغلہ لگایا ہوا ہے اور کیا کریں۔یہ جھوٹ ہے۔واقعہ یہ ہے کہ قمار بازی پھر آگے پھیلتی ہے پھر نو جوان نسلیں تباہ ہوتی ہیں اور قمار بازی کے ساتھ چوری کا پیدا ہونا بھی ایک لازمی بات ہے۔دوسرے کو دھوکا دینا بھی اس کے نتیجے میں از خود پیدا ہو جاتا ہے۔چنانچہ قمار بازی اور دوسرے کے مال کی حرمت کا احترام اٹھ جانا یہ ہمیشہ چولی دامن کا ساتھ رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہوئے ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔پس ایسے اڈے اور جگہ بھی ہوں گے، بنتے بھی ہیں بگڑ بھی جاتے ہیں لیکن جب یہ اڈے بنے ہوئے ہوں اور عام دستور بن رہے ہوں اور نظام جماعت یا معاشرہ ان کے خلاف رد عمل نہ دکھائے تو پھر یہ خطرناک اور مہلک ہو جاتے ہیں ورنہ کسی نہ کسی رنگ میں کہیں تھوڑے اور کہیں زیادہ