خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 692

خطبات طاہر جلدے 692 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء سامان پیدا ہوتے رہیں۔اس کے علاوہ خدام الاحمدیہ ، انصار اللہ اور لجنات میں نیت کے مضمون کے اوپر مختلف نصیحتوں پر مشتمل تقاریر ہونی چاہئیں۔اس موضوع پر مقابلہ کروائے جا سکتے ہیں کہ نیتوں کا فتور کس طرح قوموں کو ہلاک کیا کرتا ہے، کس طرح ان قوموں کی تاریخ سے ہمیں استفادہ کرنا چاہئے اور جماعت احمد یہ کیا طریق اختیار کرے جس کے ذریعے ہماری نسلیں پاک اور صاف اور واضح نیتوں کے ساتھ جوان ہو رہی ہوں۔یہی پیغام ہے جو میں افریقہ کے دورے میں افریقہ کو دیتا آیا ہوں۔ان کو میں بتا تا رہا ہوں کہ آپ کے بچوں کی نیتیں ابھی سے بگڑ چکی ہیں۔سارا ماحول اتنا گندہ ہو گیا ہے کہ آپ کی تعمیر نو ہو نہیں سکتی جب تک آپ اپنی آئندہ نسلوں کی نیتوں کی درستگی کی طرف توجہ نہ کریں۔اسکے لئے احمدی سکول ہیں جب تک سکولوں میں ایسے نصاب داخل کئے جاسکتے ہیں اور بالعموم جماعتی نظام کے تابع اور ذرائع ایسے اختیار کئے جا سکتے ہیں کہ کھول کھول کر آئندہ نسلوں کی نیت کو درست رکھنے کے متعلق تدابیر جماعت کے سامنے پیش کی جائیں اور پھر ایسے اقدامات کئے جائیں جس میں افراد کی مدد ہو۔صرف ماں باپ پر نہ چھوڑا جائے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کریں بلکہ جماعت ان کی مددکرے اور عملاً ان کو اس قابل بنائے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کر سکیں۔اس ضمن میں ماں باپ کی تربیت کے اجلاس بلائے جاسکتے ہیں۔بعض باتیں ایسی ہیں جن کا تعلق بچوں سے ہے لیکن براہ راست بچے مخاطب نہیں ہو سکتے۔ماں باپ کی تربیت کے سکول ہونے چاہئیں ان کو بتانا چاہئے کہ یہ خرابیاں قوم میں جڑ پکڑ گئی ہیں اور پھیل رہی ہیں اور ان سے اپنے بچوں کو بچانا ضروری ہے ورنہ اس کشتی سے باہر چلے جائیں گے جو کشتی اس زمانے میں مومنین کی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ نے دوبارہ تعمیر فرمائی ہے۔دوسرا پہلونیت کے بعد جو نیت ہی سے پھوٹتا ہے یعنی ہر باقی پہلو جو میں بیان کروں گا وہ سب نیت سے پھوٹ رہے ہیں وہ ہے کسی کی جان ، عزت اور مال سے کھیلنا۔دن بدن ہمارے معاشرے میں یہ بدیاں پھیل رہی ہیں اور جماعت میں بھی وہ داخل ہو رہی ہیں۔اس لئے یہ فخر کرنا کہ ہم ان سے بہتر ہیں بالکل غلط طریق ہے۔یہ فخر تو نہیں شکر کا مقام ہے اگر ہم بہتر ہیں لیکن اگر ہم اتنے بہتر نہیں جتنا ایک الہی جماعت کو ہونا چاہئے تو پھر یہ شرم کی بات بن جاتی ہے۔بہتر ہو نافخر کا مقام نہیں