خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 691
خطبات طاہر جلدے 691 خطبه جمعه ۴ ارا کتوبر ۱۹۸۸ء رہیں۔وہ یہ خیال نہ کریں کہ ان کے بے تکلف جھوٹ ، ان کے بے تکلف بد دیانتی کے تذکرے، ان کے مذاق مذاق میں ایسے واقعات بیان کرنا جس سے ان کی چالاکیاں ظاہر ہوتی ہوں اور دوسروں کے اموال لوٹنے کے تذکرے ہوں۔ہوشیاری کے ساتھ ہم نے فلاں کو اس طرح دھوکا دیا ، فلاں کو اس طرح دھوکا دیا بعض لوگ اس قسم کی باتیں گھر میں پکڑ کے فخر کر رہے ہوتے ہیں لیکن جو کچھ بھی وہ کرتے ہیں۔جس قسم کی باتیں گھر میں کرتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے اثرات بچوں کی زندگی پر گہری چھاپ بن کر نقش ہو جایا کرتے ہیں اور بعض دفعہ وہ انمٹ ہو جاتے ہیں۔وہ نقوش ان کی زندگی کو بنانے یا بگاڑنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس لئے سب سے پہلے تو گھروں کے ماحول کو اس نیت سے صاف اور درست کرنے کی ضرورت ہے کہ ماں باپ یقینی طور پر یہ جان لیں کہ اس معاملہ میں وہ خدا کے حضور جوابدہ ہوں گے۔اگر ان کی بد اخلاقیوں کی وجہ سے اولاد کی نیتوں میں فتور پیدا ہو گیا تو پھر ان کی تمام عمر کی بداعمالیوں میں وہ حصہ دار قرار پائیں گے۔یہی وہ مضمون ہے جو قرآن کریم کی اس آیت میں بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے جو آنحضرت یہ نکاح کے موقع پر تلاوت فرمایا کرتے ت يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (الحشر : ۱۹) اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، خدا کا خوف کرو وَلْتَنْظُرُ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدِ اور ہر جان اس بات کی نگران رہے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔میں نے بارہا اس پر روشنی ڈالی ہے کہ یہاں کل سے مراد صرف اگلا جہان نہیں، وہ کل نہیں جو مرنے کے بعد آئے گا بلکہ وہ کل بھی ہے جو ہماری زندگیوں میں ہماری اولاد کے مستقبل کی صورت میں ظاہر ہوگا اور ہمارے مرنے کے بعد آنے والی نسلوں کے اعمال کی شکل میں ظاہر ہو گا۔ہماری جن کمزوریوں کا اس کل سے تعلق ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ ہمیں متنبہ فرماتا ہے کہ تم ہمارے سامنے جوابدہ ہو گے اور ہم تمہیں آج متنبہ کر رہے ہیں۔پیں اس پہلو سے ایسے پروگراموں کی ضرورت ہے۔یہ ایک لمبا کام ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تفصیلی محنت کا محتاج ہے، حکمت کا محتاج ہے کہ جماعتیں اپنی اپنی توفیق کے مطابق ایسے پروگرام بنائیں کے خاندانوں کو متنبہ کرنے کی مشینری قائم ہو جائے ، ایسا ایک کارخانہ بن جائے جس کے نتیجے میں مستقلاً اس موضوع پر ماں باپ کی تربیت کے