خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 678 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 678

خطبات طاہر جلدے 678 خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء اس لئے زمانہ کے لحاظ سے ہماری دوری نہ ہو یعنی معنوی رنگ میں دوری نہ ہوا اگر چہ ظاہری طور پر عددی لحاظ سے سالوں کی دوری بنتی ہے۔اس لئے اس طبقہ کو خصوصیت سے اپنی طرف توجہ کرنی چاہئے اور ان کے دل کی آوازیں خواہ باہر سنائی دی جائیں یا نہ دی جائیں خود ان لوگوں نے خود سنی ہیں اور ان کے لئے بڑا آسان ہے اپنے جذبات کا تجزیہ کرنا۔اگر یہ متاثر ہوتے ہیں کسی گوسالہ کی موت سے اور اس کی دنیا کی وجاہت سے تو ان کے دل میں وہ شرک پیدا ہو چکا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام میں تمثیلاً بیان کیا گیا ہے اور اگر یہ دنیا کی وجاہتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں اور اسی قسم کے خیالات دل میں لانے لگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو بڑی شوکت دی ہے، اللہ تعالیٰ نے تو بڑی عظمت دی ہے تو اسی حد تک وہ سمجھیں کہ ان کا اپنا مقام خدا کی نظر میں گرتا چلا جاتا ہے۔عظمت وہی ہے جو خدا دیتا ہے جو اس کے پیار کے نتیجہ میں ملتی ہے۔وہ عظمت نہیں ہوا کرتی جو خدا تعالیٰ کی طرف وعید کے نتیجہ میں ملتی ہے۔پس ان دو عظمتوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ایک عظمت وہ ہے جو خدا کا وعید ظاہر ہوتا ہے اور وہ کھل کر ظاہر ہوتا ہے جیسے فرعون کے حق میں ظاہر ہوا، جیسے لیکھر ام کے حق میں ظاہر ہوا۔اس کے بعد جو دنیا کی عظمتیں ہیں وہ تو تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لوگوں کو ملا ہی کرتی ہے اس کے نتیجہ میں دل برداشتہ ہونا یا یہ خیال کر لینا کہ ضرور اس میں کوئی اچھی بات تھی اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو عظمت دی ہے۔اس میں اچھی بات تھی یا نہیں تھی آپ کے دل میں ضرور کوئی بری بات ہے جو اس قسم کے خیال آپ کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جس شخص کے حق میں وعید ہو اس کے متعلق یہ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب اس کا معاملہ خدا پہ جا پڑا ہے اور ہمیں مزید تفصیل سے اس کے خلاف بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بھی انسانی اخلاق پر برا اثر ڈالنے والی بات ہے کہ مرے ہوؤں کے خلاف انسان بے وجہ لمبی ایسی باتیں کرے جوان کی برائیوں کو اچھال کے دنیا کے سامنے پیش کرنے والی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اسی مضمون کا الہام ہوا کہ: ہن اسدالیکھا خدا نال جا پیا ہے۔“ ( تذکره صفحه: ۵۹۹) غالباً پنجابی کا الہام ہے کہ اب تیرے دشمن کا لیکھا خدا سے جا پڑا ہے جس کا مطلب یہی ہے