خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 677
خطبات طاہر جلدے 677 خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء یہ بیان کرنے کے بعد میں آخری ایک نصیحت یہ جماعت کو کرنا چاہتا ہوں کہ یہ جو الہامات ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کہ تیرے زمانہ میں موسی کے زمانے کے حالات پیدا ہوں گے ( تذکرہ صفحہ: ۳۶۶) اس میں مخاطب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اس لئے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد واقعات ہوں ان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے۔اس بات کو خوب اچھی طرح یاد رکھیں اور آپ ہی کی جو قد ر اللہ کے دل میں تھی اس کے نتیجہ میں ان واقعات نے رونما ہونا تھا۔دوسری بات ایک انذار کا رنگ رکھتی ہے اور جماعت کو استغفار کرتے ہوئے دعا میں ہمیشہ مشغول رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس انذاری پہلو کو ہمارے وقت میں پورا نہ فرمائے اور اگر ہم سے کوئی کوتاہیاں ہو بھی گئی ہیں تو ان بلا ؤں کو ہم سے ٹال دے۔موسیٰ کے وقت میں ایسے بھی واقعات ہوئے جس سے خود موسی کو تکلیف پہنچی اور اپنی قوم سے تکلیف پہنچی، ایک گوسالہ کو خدا بنا لینا، بچھڑے کو خدا بنا لینا، اس کے اندر میں نے جب غور کیا تو دو باتیں ایسی ہیں جن کی طرف میں جماعت کو خاص طور سے متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اس بچھڑے کی عظمت ان لوگوں کے دلوں میں تھی جن کے دل میں دنیا کی وجاہت اور سونے اور چاندی اور دولتوں کی عظمت تھی۔پس ضروری نہیں ہوا کرتا کہ ہر زمانہ میں شرک ایک ہی طرح ظاہر ہو ، بعض دفعہ شرک کھلم کھلا بت پرستی کے رنگ میں ظاہر ہوا کرتا ہے، بعض دفعہ دل مشرک ہو جاتا ہے خواہ زبان بظاہر مشرک نہ بھی ہو۔پس جماعت کا وہ طبقہ جو دنیا کی طرف سے آرام یافتہ ہے اس کو اپنی فکر کرنی چاہئے اس کو ہمیشہ اپنے دل کا تجزیہ کرنا چاہئے کہ کیا وہ دنیا کی دولتوں اور جاہ و حشمت سے متاثر تو نہیں ہو گیا، وہی سونا قوم میں پہلے بھی موجود تھا اور اس سونے کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے کسی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا لیکن وہ جب بت بن کر ظاہر ہوا ہے تب خدا تعالیٰ کی پکڑ نازل ہوئی ہے۔پس سونے سے تعلق یا دنیا کی دولتوں سے تعلق سے خدا منع نہیں کرتا مگر اس کو بت بنانے سے خدا منع کرتا ہے۔پس جماعت کو یہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ دنیا کی دولتیں اور دنیا کی وجاہتیں ان کے لئے بت نہ بن جائیں اور خاص طور پر اس دور میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے تقریباً ایک سوسال دور ہو چکے ہیں۔خدا کرے کہ یہ دوری سالوں کی ہو لیکن روحانی رنگ میں نہ ہوان دعاؤں کی بڑی ضرورت ہے اور روحانی طور پر چونکہ یہ زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی کا زمانہ ہے