خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 676 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 676

خطبات طاہر جلدے 676 خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء برداشت نہیں کر سکتا تھا اور ایک ڈوئی تھا اس کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ کیا گیا حالانکہ عیسائی دنیا میں اس سے پہلے ہزاروں ایسے بد زبان اور بدتمیز لوگ تھے جنہوں نے حضرت اقدس محمد مصطفی عالی کے خلاف دشنام طرازی سے کام لیا ہے ، گالیاں دی ہیں۔پس ان دونوں باتوں میں گہرا تعلق ہے۔یہ ایک دکھے ہوئے دل کی آواز ہے جو بعض دفعہ خدا کی تقدیر کو حرکت میں لاتی ہے اور وہ تقدیر پھر عذاب کی صورت میں دشمنوں پر پڑتی ہے۔پس اس روح کو اگر آپ قائم رکھیں تو ہمیشہ کسی کی نفرت نہیں بلکہ کسی کی محبت معجزے دکھایا کرے گی اور خدا تعالیٰ کے مقدس بندوں کی محبت ہی دراصل حقیقی معجزہ ہے۔اس میں کسی دعا کرنے والے کی بڑائی کا اتنا تعلق نہیں جتنا اس محبت کا تعلق ہے جو اس کو کسی مقدس سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر یہ معجزہ جو دکھایا گیا ہے یہ اس عشق کے نتیجہ میں ہے جو آپ کو حضرت محمد مصطفی میں اللہ سے تھا۔علیسا پس آج بھی جب لوگ کہتے ہیں کہ فلاں جب گالیاں دیتا ہے ہمارا دل کہتا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف بکواس کرتا ہے، بدزبانی کرتا ہے تو ہمارا دل کرتا ہے۔تو بسا اوقات مختلف رنگ کے نظارے ظاہر ہوتے ہیں۔بعض لوگوں کے دل ان کے کہنے کے مطابق کہتا تو ہے لیکن اس مخالف پر خدا کی کوئی پکڑ ظاہر نہیں ہوتی اور بعض لوگ لکھتے ہیں کہ ادھر ہمارے دل سے دعا بلند ہوئی ہے، ایک بیقرار چیخ نکلی ہے کہ اے خدا! اس شخص نے ظلم کی حد کر دی ہے یہ ایسی ایسی زبان درازیاں کر رہا ہے اور چند دن کے اندراندر وہ شخص حیرت انگیز طور پر ہلاک ہوگیا اور بعض دفعہ اس کے منہ سے نکلی ہوئی بات کے نتیجہ میں ہلاک ہوا ہے، ان دنوں میں ہلاک ہوا ہے جن دنوں میں آپس میں ان کا معاملہ طے ہوا کہ جو بھی جھوٹا ہے اس عرصہ کے اندر اندر ہلاک ہو جائے۔ان میں مختلف قسم کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔یاد رکھیں یہ اتفاقی حادثات نہیں ہیں۔یہ دل کی صداقت ہے جو بعض دفعہ مجزے دکھاتی ہے اور بعض دفعہ وہ دل کی صداقت میں کوئی کمزوری رہ جاتی ہے اور بعض اور عوامل اس پر اثر انداز ہو جاتے ہیں ور نہ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے کسی مقدس اور برگزیدہ سے آپ کو سچا عشق ہو اور اس کے خلاف گستاخیوں کے نتیجہ میں آپ کا دل حقیقہ کٹ رہا ہو اور زندگی ایک عذاب بن رہی ہو تو ہو نہیں سکتا کہ خدا کی غیرت اس وقت ایک غیر معمولی جوش اور غضب کے ساتھ بیدار نہ ہو اور اپنے کرشمے نہ دکھائے۔