خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 675 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 675

خطبات طاہر جلدے 675 خطبه جمعه ۷ را کتوبر ۱۹۸۸ء اس لئے جماعت احمدیہ کو ان حالات میں اپنا تجزیہ کرتے رہنا چاہئے۔اگر خوشی تعلمی کا رنگ رکھتی ہو، اگر خوشی کسی کے غم کے نتیجہ میں ہے تو یہ ظلم کی بات ہے اس کا بچے اور پاک لوگوں کے دلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسی خوشی نقصان کا موجب بن سکتی ہے۔آپ کو زندہ کرنے کی بجائے آپ کو ہلاک کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔اصل خوشی وہی ہے کہ نظر خالصہ مرضی مولا پر رہے اور چونکہ اللہ کی بات پوری ہوئی اور خدا کے نوشتوں نے جو پہلے پیشگوئیوں کا رنگ رکھتے تھے اب عملاً دنیا میں ظاہر ہوکر ایک حقیقت کا روپ دھارلیا۔اس بات کی اگر خوشی ہے تو یہ خوشی انبیاء اور پاک لوگوں کی خوشی کے عین مطابق ہے۔پس ہر گز تعلی کو اور جھوٹی اور کھوکھلی خوشی کو اپنے دلوں میں جگہ نہیں دینے چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام مزید فرماتے ہیں:۔وو یہ بالکل غلط بات ہے کہ لیکھرام سے مجھ کوکوئی ذاتی عداوت ہے۔مجھ کو ذاتی طور پر کسی سے بھی عداوت نہیں بلکہ اس شخص نے سچائی سے دشمنی کی اور ایک ایسے کامل اور مقدس کو جو تمام سچائیوں کا چشمہ تھا تو ہین سے یاد کیا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے ایک پیارے کی دنیا میں عزت ظاہر کرے۔“ ( تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۹۳۰) اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا آنحضرت ﷺ سے عشق تھا جس نے آپ کو ہ شدید غم میں مبتلا رکھا۔جب بھی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی گستاخی ہوتی تھی تو آپ کا دل کرتا تھا اور اسی اندرونی دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا مظہر وہ عذاب بنا ہے جس نے اس دشمن کے ٹکڑے کئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل کے ٹکڑے کرتا تھا اور آپ کے محبوب کے خلاف گستاخی کی زبان کھولا کرتا تھا۔ان دونوں باتوں کا گہرا تعلق ہے ورنہ خدا کے انبیاء اور خدا کے پیاروں کو اور بھی لوگ گالیاں دیا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ دنیا میں ویسا سلوک نہیں ہوتا۔آنحضرت مہ کو گالیاں دینے والوں میں سے صرف یہ لیکھرام ہی نہیں تھا بلکہ مغربی دنیا میں بھی کثرت سے آپ کو گالیاں دینے والے پیدا ہوئے جنہوں نے بہت گستاخی کے رنگ میں بڑھ بڑھ کر باتیں کی ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کے ساتھ دنیا میں یہ سلوک نہیں ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک لیکھرام تھا جو ایسے عاشق محمد مصطفی امی ﷺ کے زمانہ میں پیدا ہوا جس کا دل اس غم کو