خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 674
خطبات طاہر جلدے 674 خطبہ جمعہ ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء کہ پنڈت جی کی آشا تھی۔میرا مطلب یہ ہے کہ پنڈت جی کی یادگار میں ایک جدا محکمہ ہونا چاہئے تھا جس کا کام تمام مذاہب کے حملہ جات ، ان کی کتابوں اور اعتراضوں کے جواب دئے جاتے۔ایک محکمہ ویدک علم وادب پر مختلف قسم کی کتب تحریر کرنے اور ان کے ترجمے شائع کرنے کا کام کرتا۔“ ( آریہ مسافر : مارچ ۱۹۳۲ء) بہر حال لیکھرام کی بہت عزت افزائی کی گئی ، بہت کچھ اس کا ماتم کیا گیا اور بعض لوگوں نے ظلم کی راہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ لکھا اگر چہ رپورٹ میں ایسا کوئی واقعہ درج نہیں کیا گیا، مگر یہ لکھا کہ مرزا صاحب یہ کہا کرتے تھے کھلم کھلا کہ یہ شخص ہلاک ہو گا اور قتل کیا جائے گا اس لئے لازماً اس میں ان کا ہاتھ ہے لیکن جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قلبی جذبات کا تعلق ہے جماعت احمدیہ کو یہ پیش نظر رکھنا چاہئے ایک صاف دل، پاک دل انسان کے لئے ایسے موقعوں پر کس قسم کا رد عمل ظاہر کرنا چاہئے اس کا نمونہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے قلبی کیفیات میں ہمیں ملتا ہے۔آپ فرماتے ہیں : اگر چہ انسانی ہمدردی کی روح سے ہمیں افسوس ہے اس کی موت ایک سخت مصیبت اور آفت اور نا گہانی حادثہ کے طور پر عین جوانی کے عالم میں ہوئی لیکن دوسرے پہلو کی رو سے ہم خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں کہ اس کے منہ کی باتیں آج پوری ہو گئیں۔ہمیں قسم ہے اس خدا کی جو ہمارے دل کو جانتا ہے کہ اگر وہ یا کوئی اور کسی خطرہ موت میں مبتلا ہوتا اور ہماری ہمدردی سے وہ بچ سکتا تو ہم کبھی فرق نہ کرتے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۴۳۰) پس یہ وہ روح ہے جو زندہ رہنے والی اور زندہ رکھنے کے لائق اور زندہ رکھنے کے لئے ضروری روح ہے۔یہ ایسی روح ہے جو زندہ ہے ہمیشہ انبیاء اور پاکیزہ لوگوں کی صورت میں زندہ رہے گی۔زندہ رہنے کے لائق ہے اور زندہ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، مُردوں کو زندہ کرنے والی روح ہے۔صرف دوسروں کو نہیں اپنی روح کو زندہ کرنے کے لئے یہ روح ضروری ہے۔یعنی یہ رجحان ضروری ہے دل کا۔