خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 653 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 653

خطبات طاہر جلدے 653 خطبه جمعه ۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ء لاشوں کو حفاظت کے ساتھ دو مقبروں میں دفنا دیا گیا جس کا راز تین ہزار سال بعد اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد معلوم ہوا ہے۔پس قرآن کریم کا یہ معجزہ کوئی معمولی معجزہ نہیں ہے اور حیرت انگیز مجزہ ہے اور یہ نشان جیسے کے میں نے بیان کیا ہے تین ہزارسال سے زائد عرصے تک پھیلا ہوا ہے اور تین ہزار سال سے زائد زمانوں میں پھیلے ہوئے مختلف عہدوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔پہلا عہد حضرت موسیٰ کا عہد ہے پھر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عہد ہے پھر آپ کی امت میں ہونے والے ایک آئندہ ہونے والے ایک آئندہ واقعہ سے اس کا تعلق ہے اور عجیب بات ہے کہ فراعین مصر اور اُن کا جو سلسلہ چلا ہے یہ بھی دنیا کا طویل ترین سلسلہ ہے۔کوئی اور تہذیب اور کوئی اور بادشاہت اتنے طویل عرصے تک نہیں پھیلی۔چنانچہ متقین کے نزدیک فراعین مصر کا سلسلہ تین ہزار سال سے زائد عرصہ تک جاری رہا۔یہ عجیب اللہ تعالیٰ کی شان ہے اُس کی بڑی گہری حکمتیں ہوتی ہیں اُس کی تقدیر کے اظہار کی اور کئی رنگ میں یہ باتیں آپس میں ملی ہوتی ہیں اور ان کے تعلقات ہیں یعنی روحانی تاریخ کے بھی اور دنیاوی تاریخ کے بھی۔اب میں اس مضمون کو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض احادیث سے مزید واضح کرتا ہوں۔یہ بات کہ آئندہ زمانے میں امت محمدیہ کے ساتھ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اس واقعہ کا ایک تعلق ہوگا اور اس فرعون کا ایک تعلق ہوگا یہ بات خود حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے واضح فرمائی اور آپ نے اس کا خوب کھول کر ذکر فرمایا۔جامع ترمذی کتاب الصوم باب ماجاء فی صوم المحرم اس میں ایک روایت ہے جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے سالہ رجل فقال ای شهر تامرنی ان اصوم بعد شهر رمضان قال له ماسمعت احد يسال صلى الله عن هذا الا رجلا سمعته يسال رسول الله علل و انا قاعد عنده فقال يا رسول الله ای شهر تامرنى ان اصوم بعد شهر رمضان قال ان كنت صائما بعد شهر رمضان فصم المحرم فانه شهر الله فيه يوم تاب فيه على قوم ويتوب فيه على قوم آخرين ترمذی کی اس حدیث کی شرح میں حاشیہ میں لکھا ہے قوم موسیٰ نـجـاهــم الــلــه مـن فرعون و اغرقہ کا اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس قوم کا ذکر فرمایا ہے وہ موسیٰ کی قوم تھی اُن کو تو اللہ تعالیٰ نے فرعون سے نجات بخشی اور فرعون کو غرق فرما دیا۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک