خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 640
خطبات طاہر جلدے 640 خطبه جمعه ۲۳ ؍ستمبر ۱۹۸۸ء سے دیکھا اور میں نے اندازہ لگایا کہ یہاں کے تعلیم یافتہ لوگوں میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ظاہری تعلیم ہی نہیں بلکہ شائستگی بھی پائی جاتی ہے۔ایک اہم موقع پر یس کا نفرنس کا تھا جس میں تمام ملک کے تمام اہم اخبارات کے نمائندگان شامل تھے۔سوائے ایک مسلمان اخبار کے جس نے بائیکاٹ کیا ہوا تھا اور ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے نمائندے بھی تھے۔پریس کانفرنس سے بھی میرے ان خیالات کو تقویت ملی کہ پریس کے نمائندے ہر جگہ ایک ہی طرح کے تربیت یافتہ ہوا کرتے ہیں لیکن یہاں پر لیس کے نمائندوں میں جو خاص بات محسوس کی کہ نہایت ذہانت کے ساتھ ایسے سوال کرتے تھے جونفس مضمون میں ڈوب کر ایسے سوالات کرتے اور فلسفیانہ رنگ بھی رکھتے تھے۔یورپ اور امریکہ میں تو عام ملاقات ہوتی رہتی ہے لیکن مشرقی دنیا میں اس قسم کے اخبار نویس جن کا ذہن صقیل ہو خوب اچھی طرح اور پھر ظاہری طور پر اپنے مضمون سے واقف نہ ہوں بلکہ مضمون کی تہ تک اتر کر بات کو معلوم کرنا جانتے ہوں۔یہ عام روز مرہ ملاقاتوں میں نہیں ہوا کرتی یعنی مشرقی دنیا میں۔بعض تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کر کے آئے ہیں کہ ہم نے ہر بات میں مخالفت ضرور کرنی ہے۔بعض معلوم ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ کر کے آئے ہیں کہ جو کچھ بھی یہ کہیں گے ہم نے جو لکھنا ہے اُس کا پہلے فیصلہ کر لیتے ہیں، عجیب و غریب اخبار نویسوں سے مشرقی دنیا میں واسطے پڑتے رہتے ہیں لیکن جیسا کہ افریقہ کے بعض ممالک میں بھی میرا اخبار نویسوں کے متعلق تاثر بہت اچھا تھا یہاں اُس سے بھی اچھا تاثر قائم ہوا ہے۔تو میں یہ سمجھتا ہوں خدا تعالیٰ نے آپ کو بالعموم ایک تعلیم یافتہ شائستہ سوسائٹی عطا فرمائی ہے اور یہ اس پہلو سے تیار ہے کہ اس پر احمدیت کی روشنی ڈالی جائے تو یہ چمک دمک اُٹھے۔اس لئے بہت ہی زیادہ ضرورت ہے کہ جماعت احمدیہ کے بڑے چھوٹے مرد اور عورتیں اور بچے بھی اس حسین پیغام کو جو زندگی بخش پیغام ہے جو انسانی قدروں کو صیقل کر کے خدا نما قدروں میں تبدیل کر دیا کرتا ہے اس پیغام کو اپنے تک نہ رکھیں بلکہ کثرت سے اپنے ماحول میں پھیلا دیں۔اس کے برعکس بعض علماء کی طرف سے بدخلقی کے مظاہرے بھی ہوئے۔مخالفانہ باتیں تو مخالف کیا ہی کرتے ہیں لیکن دنیا میں ہر قسم کے مخالف ہوتے ہیں بعض انسانی اور اخلاقی قدروں کی حدوں کو پھلانگ کر باہر نہیں جایا کرتے۔بعض مخالف اخلاقی اور انسانی قدروں کی حدوں کو بڑی آسانی سے پھلانگ جاتے ہیں جو اُن کے نزدیک انسانی اور اخلاقی قدروں کی دیوار میں بہت چھوٹی ہوتی ہے