خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 634 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 634

خطبات طاہر جلدے 634 خطبه جمعه ۶ ار ستمبر ۱۹۸۸ء تو امت مسلمہ سے کس طرح الگ ہو سکتے ہیں۔امت مسلمہ کا آپ ایک حصہ ہیں اور امت مسلمہ پر جو داغ لگتا ہے وہ آپ کے دل کا داغ ہے۔امت مسلمہ کو جو چر کا لگتا ہے وہ آپ کے سینے میں زخم ہے۔اس لئے آپ ہرگز اس بات پر خوش نہ ہوں کہ آپ بحیثیت فرقہ ان سے الگ اور ممتاز ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ باقی مسلمان تو گندے ہو گئے ہیں احمدی نسبتاً بہتر ہیں۔اول تو یہ بات زیادہ دیر چلا نہیں کرتی۔وہ گندے ہوئے ہیں تو آپ بھی رفتہ رفتہ گندے ہو جائیں گے اگر آپ ان کو روکیں گے نہیں۔اگر ان کی اصلاح نہیں کریں گے تو آپ کی اصلاح کی بھی کوئی ضمانت نہیں۔دوسرے یہ کہ اسلام پر داغ لگ رہا ہے، قرآن پر داغ لگ رہا ہے، مسلمانوں پر جو محد رسول اللہ ﷺ کے غلام ہیں۔آپ کی غیرت برداشت کس طرح کرتی ہے یہ سوچ کر ، اطمینان حاصل کرنے کی اجازت آپ کو کس طرح ملتی ہے کہ آپ الگ ہیں آپ برے نہیں ہیں اس لئے لوگ سب کہتے ہیں دوسرے مسلمان خراب ہیں۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ کی محبت اور آپ کے عشق کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کے خلاف کہیں بھی کوئی انگلی اٹھے تو آپ کو یوں لگے کہ آپ کے دل کا نشانہ لے رہی ہے۔اس کی وہ نوک آپ کے سینے میں چھنی چاہئے۔اس کے بغیر آپ سچے مسلمان بن ہی نہیں سکتے۔اس لئے اپنے دلوں کی فکر کریں ضروری نہیں کہ ان کو تبلیغ کر کے پہلے احمدی بنایا جائے۔آپ یہ نصیحت عام کر دیں درد کے ساتھ اور محبت کے ساتھ ان کو سمجھانا شروع کریں کہ خدا کے واسطے اسلام کو بدنام نہ کرو۔تم ہمیں سچا سمجھویا نہ سمجھو، جھوٹا سمجھو یا جو چاہو کہ لولیکن خدا کے لئے محمد مصطفی امیہ کی طرف منسوب ہو کر اسلام کے اوپر طعن و تشنیع کے سامان تو مہیا نہ کرو۔یہ آپ اگر درد کے ساتھ نصیحت شروع کریں اور لوگوں کو سنبھالنا شروع کریں تو آپ کی اپنی بھی اصلاح ہوگی۔نصیحت کرنے والا ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دوسروں کے مقابل پر زیادہ محفوظ رہتا ہے۔جو دوسروں کی برائیاں دور کرنے کی کوشش کرے اس کا ضمیر ہمیشہ اس کو کچوکے دیتا رہتا ہے اور بالآخر اس کا ضمیر اس کی برائیوں پر غالب آجایا کرتا ہے۔اس لئے آپ کے لئے دوہرا فائدہ ہے۔ایک تو یہ کہ اسلام اور محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اگر آپ بھائیوں کو نصیحت شروع کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس میں بہت برکت دے گا اور آپ کے اسلام کی حفاظت فرمائے گا اور دن بدن آپ کی باتوں میں، آپ کے اعمال میں برکت بڑھتی چلی جائے گی۔دوسرا یہ کہ اس کے نتیجے میں عمومی طور پر آپ کا ضمیر خود آپ کی حفاظت شروع کر دے گا اور پہلے