خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 633
خطبات طاہر جلدے 633 خطبه جمعه ۶ ار ستمبر ۱۹۸۸ء اکثر معاشرتی خرابیوں کا ذمہ دار مسلمانوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔وہ اسلام جو خیر امت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا، دنیا کے تمام امتوں سے بہتر امت ، جس کا شعار ہی یہ مقرر فر مایا گیا کہ تم دنیا کو نیکیوں کی تعلیم دینے والے لوگ ہو اور بدیوں سے روکنے والے ہو۔عجیب ظلم ہے یعنی انتہائی تعجب انگیز بات ہے جو انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسی جماعت کو دنیا نیکیوں کی طرف بلائے اور دنیا ان کی برائیوں کی طرف ان کو متوجہ کرے اور وہ دنیا ایسی دنیا ہو جو دراصل شرک سے تعلق رکھنے والی دنیا ہے۔یہاں مسلمانوں کے سوا ہندو بستے ہیں اور ہندوؤں میں سے بہت سے ایسے بھی ہیں جو موحد ہیں جو ایک خدا کو ماننے والے ہیں اور ان کے اندر اس لحاظ سے روحانیت بھی پائی جاتی ہے لیکن اکثریت بت پرستوں کی ہے۔عجیب زمانہ الٹا ہے، عجیب تکلیف دہ انقلاب آیا ہے کہ ہند و مسلمانوں کو کہہ رہے ہیں کہ خدا کے لئے ہوش کرو۔یہ برائیاں جو تم اختیار کر رہے ہو، یہ معاشرے کی بدیاں جو تم سارے ملک میں پھیلا رہے ہو یہ مہلک چیزیں ہیں یہ تمہیں بھی ہلاک کریں گی اور ہمیں بھی ہلاک کریں گی۔تو وہ ہاتھ جوڑ کر مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم اس ملک کا خیال کرو، ہوش کرو اس کو تباہ ہونے سے بچاؤ ، تمہاری وجہ سے ایک اچھا بھلا ہنستا بستا ملک جس پر خدا نے بڑے فضل کئے ہیں وہ تباہ ہو جائے گا۔جہاں ایک دفعہ Drug Addiction کی عادت پڑ جائے وہاں قو میں ہمیشہ تباہ ہو جایا کرتی ہیں کوئی طاقت ان کو پھر روک نہیں سکتی۔اس لئے بہت ہی زیادہ خوف اس چیز کے خلاف دنیا کی بڑی بڑی طاقتور مملکتوں میں بھی پیدا ہو چکا ہے۔وہ بھی ڈر رہے ہیں اس ہولناک بیماری سے۔چھوٹے ممالک خواہ وہ بظاہر خوشحال بھی ہوں ان کے اندر تو طاقت ہی نہیں ہے کہ اس قسم کی بدیوں کو زیادہ دیر برداشت کر سکیں۔یہ ان کو کسی قیمت پر بھی زندہ نہیں رہنے دے سکتی۔ایسی قو میں جب اس قسم کی بدیوں کا شکار ہو جائیں پھر آخر ہلاک ہو جایا کرتی ہیں اور ظلم کی بات یہ ہے کہ ہندو مسلمانوں کو نصیحت کر رہے ہیں۔ظلم کی بات ان معنوں میں کہ مسلمانوں کے نقطہ نگاہ سے۔ان کے نقطہ نگاہ سے تو بڑی اچھی بات اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق بخشی کہ اپنے بھائیوں، اپنے ہم وطنوں کو نیکی کی تعلیم دے رہے ہیں لیکن آپ کو تو شرم آنی چاہئے۔آپ کو تو سوچنا چاہئے کہ ہمارے مسلمان بھائی حضرت محمد مصطفی اس سے وابستہ ، قرآن کریم سے وابستہ وہ کیا کر رہے ہیں۔آپ کو ہرگز اس بات پر مطمئن نہیں ہونا چاہئے کہ آپ ان سے الگ ہیں اخلاق اور کردار میں۔اخلاق اور کردار میں الگ ہوں گے