خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 598
خطبات طاہر جلدے 598 خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۸۸ء پاس جائیں گے اور اُن کو اُکسائیں گے اور اُن کو بتائیں گے کہ اگر فلاں آگیا تو نہایت خطرناک نتیجے نکلیں گے۔اس لئے تم جو کچھ بھی بن سکتا ہے ہمیں تحفظ دو، کسی طرح ہمیں دوبارہ لے آؤ اور بعینہ یہی کچھ آج پاکستان میں ہو رہا ہے۔جونیجو صاحب بھی اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔الف بھی پہنچ گیا ہے،ب بھی پہنچ گیا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے سارا ملک اس وقت سازشوں کی کھچڑی بن گیا ہے۔ہمشخص دوڑ رہا ہے کہاں طاقت ہے اُس سے میں تعلقات بڑھاؤں اور کسی طرح اُس طاقت کے ذریعے ملک پر مسلط ہوں خواہ عوام کی طاقت مجھے نصیب ہو یا نہ ہو۔یہ دوڑ ہے جو اس وقت جاری ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ کسی کو کسی سے خطرہ نہیں ہے۔خطرہ ہے صرف بے اطمینانیوں سے، بے اعتمادیوں سے اور حسد سے اس لئے جہاں دوسری دعائیں کریں وہاں مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ( الفلق :) کی دعا خصوصیت کے ساتھ کریں۔مجھے ڈر ہے کہ اس وقت پاکستان کے حالات میں سب سے بڑا خطرہ حسد سے ہے۔بہت سے ایسے سیاست دان ہیں جو یہ چاہیں گے کہ فوج مسلط رہے، امریکہ مسلط رہے مگر ہمارا رقیب نہ اوپر آ جائے۔رات کے وقت سے پہیئے ، ساتھ رقیب کو لئے آئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ کرے خدا کہ یوں (دیوان غالب صفحہ ۱۸۹) یہ شعر ہے جو اس وقت ملک پر اطلاق پا رہا ہے۔سب کہتے ہیں آزادی آئے آزادی آئے لیکن رقیب کے ساتھ نہ آئے بغیر رقیب کے آئے تو پھر منظور ہے۔اللہ تعالیٰ عقل دے ان کو تو فیق دے۔آزادی تو آنے دیں۔جب تو میں آزاد ہو جایا کرتی ہیں باشعور ہوتی ہیں، با اخلاق ہوتی ہیں، با اصول ہوتی ہیں تو سیاستیں کسی ایک کو ہمیشہ کے لئے مسلط نہیں کیا کرتیں۔یہی تو سیاست کا فائدہ ہے۔یہی تو آمریت کا نقصان ہے جس میں ایک طاقت کو ہمیشہ کے لئے مسلط کر دیا جاتا ہے یا ایک ہی قسم کی طاقت کے نمائندوں کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔اس لئے یہ کیوں صبر سے کام نہیں لیتے۔کیوں نہیں دیکھتے کہ سیاست میں حالات بدلا کرتے ہیں۔آج چرچل ہے تو کل کوئی اور آجائے گا۔آج روز ویلٹ ہے تو کل کوئی اور آجائے گا۔یہ حالات آزاد قوموں میں، باشعور قوموں میں ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔یہی تو سیاست کی خوبی ہے کہ ہر شخص کو آزادی ہے اور کوئی اکراہ نہیں ہے۔آپ اُن سے بہتر باتیں لوگوں سے کہیں جو اس وقت مسلط ہونے والے ہیں۔اُن سے زیادہ عقل کی باتیں