خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 596 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 596

خطبات طاہر جلدے 596 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء کے لحاظ سے۔نہرو نے جو بہت عظیم نام پیدا کیا دنیا میں وہ صرف اسی وجہ سے کیا تھا۔وہ جھکا نہیں ہے اُس نے سودا بازی کی ہے۔وہ جانتا تھا کہ کونسی قوم کس حد تک ہندوستان کی دوستی کی محتاج ہے۔اُس حد تک اُس نے پوری قیمت لے کر وہ دوستی کی ہے اور اُس سے آگے نہیں بڑھنے دیا قوم کو اور ایسا شخص جو صاحب کردار ہو جو اندرونی طور پر عظمت رکھتا ہو جو اپنی قوم کے وقار کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار ہو یہ آزاد قومیں بھی اُسی کی عزت کیا کرتی ہیں۔ورنہ دوسروں کو تو ذلیل ورسوا کر دیا کرتی ہیں۔غلاموں کی طرح اُن سے بھی بدتر سلوک اُن سے کرتی ہیں۔اس لئے ہمارے سیاست دانوں کو اگر اندرونی عزت درکار ہے اور اگر اندرونی وقار اور د بد بہ چاہئے تب بھی اُن کو اپنی طاقت کسی اور سے مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔بے طاقت کے بیٹھے رہنا اُن کے وقار کو بڑھائے گا بہ نسبت اس کے کہ مانگی ہوئی طاقت پر قابض ہوں۔اور بیرونی طور پر بھی اُن کو ہرگز کسی قوم کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں ہے۔اُن کو کہیں کہ ٹھیک ہے جو کچھ تم کر سکتے ہو کر گزرو۔آگے حالات تمہیں بتائیں گے کہ تمہاری تمام محنتیں رائیگاں جائیں گی۔سب کئے کرائے پر پانی پھر جائے گا کیونکہ اندرونی طور پر قانون رد عمل پیدا کر دے گا۔جس کے نتیجے میں اس علاقے میں وہ دھماکے ہوں گے جن کو تم پھر کنٹرول نہیں کر سکتے کبھی بھی۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے فوجی طاقت جو دنیا کی ہیں اُن کے اندر بھی پھر رد عمل شروع ہو جاتے ہیں جو باہر کی طاقتیں ہیں اُن میں رد عمل عوام میں زیادہ گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں۔زیادہ پھیلتے چلے جاتے ہیں۔Polarisation بڑھنی شروع ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ بعض دفعہ ایسے خطرات بھی پیدا ہو جاتے ہیں کہ لوگ دوسری قوموں کی طرف مدد کے لئے دوڑتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اس مصیبت سے نجات دلاؤ۔ایک فوج کو ہم نے دیکھ لیا اب دوسری فوج بھی سہی۔اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کسی اور کی طاقت سے اس فوج کو شکست دی تو ہم ملک پر قابض ہوجائیں گے۔وہ بھی دھوکے میں ہیں۔اُن کو بھی میں متنبہ کرنا چاہتا ہوں غیر قوموں کی طرف بھاگ کر کسی فوج کے تسلط سے نجات پانے کے نتیجے میں کبھی بھی آپ کو آزادی نصیب نہیں ہو سکتی۔یہ بھی ایک جہالت ہے۔اور اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ وہ قومیں جو ایسے لوگوں کو طاقت میں لاتی ہیں جو اُن کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ آؤ اور ہمیں طاقتور بنادووہ اس وقت تک اُن کو طاقت میں رکھتی ہیں جب